Posts

New slide

MCQ Presentation MCQ 1: Which of the following properties of water is NOT primarily due to hydrogen bonding? (A) High specific heat capacity (B) Low density of ice (C) Cohesive nature of liquid water (D) Dissolving ability of polar solutes Explanation - (A), (C), and (D) are all dependent on the extensive network of hydrogen bonds between water molecules. These bonds allow water to absorb and release a significant amount of thermal energy (high specific heat), resist compression (cohesion), and form dipole-dipole interactions with polar solutes for dissolution. - (B) is an exception. Ice floats because the hydrogen bonds create a more open, less dense solid structure compared to the close-packed arrangement in most liquids. Correct Answer: (B) Low density of ice MCQ 2: What primary factor contributes to the high surface tension of water? (A) Its cov...

All mcqs

1) Which process involves the removal of a hydroxyl group (OH) and a hydrogen (H) to join two monomers? A) Hydrolysis B) Polymerization C) Condensation D) Dehydration Previous Explanation Next Condensation reaction involves the removal of a hydroxyl group (OH) from one monomer and a hydrogen (H) from another to join them together. Previous Explanation Next

Mcqs

1) In the absence of hydrogen bonding, what would be the approximate freezing point of water? A) -10°C B) -50°C C) -80°C D) -100°C Previous Explanation Next Without hydrogen bonding, water's freezing point would decrease, estimated to be around -100°C. Previous Explanation Next

Vocabulary

Card Undermined تخریب کرنا

دماغ کی صلاحیت قسط Last

  دماغ کی صلاحیت قسط Last  ہمارا دماغ ہمیں بتاتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے، کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہے، کیا سوچنا اور کیا بولنا چاہیے۔یہ دماغ ہی ہے جو سڑکوں یا گلیوں میں پھرتے اجنبیوں کے چہروں کو یاد رکھتا ہے اور ہمیں فکروں سے بچاتا ہے۔ انسانی دماغ میں تقریباً سو ارب خلیات ہوتے ہیں جبکہ ایک دماغی خلیے کے دیگر دماغی خلیات کے ساتھ ایک ہزار سے دس ہزار تک رابطے ہوتے ہیں اور ان خلیات کے درمیان پیغامات کی منتقلی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہو جاتی ہے۔ پیدائش کے وقت انسانی دماغ کا وزن تقریباً ایک پونڈ (آدھے کلو سے بھی کم) ہوتا ہے لیکن جب انسان چھ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو دماغ کا وزن تین پونڈ تک ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب ہم کھڑا ہونا، باتیں کرنا اور چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس دوران ہمارے دماغ میں رابطوں کا ایک جال بچھنے لگتا ہے اور یوں دماغ کا وزن بڑھ جاتا ہے زندہ رہنے اور کچھ بھی سیکھنے کے لیے ہم دماغ پر انحصار کرتے ہیں مگر یہ جسم کا وہ عضو ہے جس کے بارے میں بہت کچھ اب بھی صیغہ راز میں ہے پیدائش کے وقت انسانی بچے کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، دماغ میں پہلے سے قدرت کی طرف سے ڈال...

دماغ کی صلاحیت – قسط: 02

  دماغ کی صلاحیت – قسط: 02   کیا شعور محض ایک فریب ہے؟ اور کیا انسانی دماغ محض ایک پیچیدہ مشین ہے؟ بی بی سی کے مطابق ادراکی سائنس دان ڈینیئل ڈینیٹ سمجھتے ہیں کہ ہمارا دماغ ایک ایسی مشین ہے جو اربوں چھوٹے چھوٹے 'روبوٹوں' یعنی عصبی خلیوں پر مشتمل ہے۔ تو کیا واقعی انسانی دماغ حقیقیت میں ایسا ہی ہے؟1965ء میں فلسفی ہوبرٹ ڈرائفس نے بیان دیا کہ انسان ہمیشہ کمپیوٹر کو شطرنج میں شکست دیتا رہے گا کیوں کہ انسان کے پاس وجدان کی صلاحیت ہے جس سے کمپیوٹر عاری ہے۔ ڈینیئل ڈینیٹ نے ان سے اختلاف کیا تھا۔چند برس کے اندر اندر ڈرائفس کو اس وقت خجالت کا سامنا کرنا پڑا جب انھیں ایک کمپیوٹر نے مات دے دی۔ پھر مئی 1997ء میں آئی بی ایم کے کمپیوٹر 'ڈیپ بلو' نے شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کا سپاروف کو شکست دے کر دنیا کو چونکا دیا۔ ڈینیئل ڈینیٹ کا خیال ہے کہ ہمارا دماغ اربوں روبوٹوں پر مشتمل مشین ہے جو کیمیائی سگنلوں کی مدد سے کام کرتی ہے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ کیوں کہ شطرنج منطق کا کھیل ہے، اس میں وجدان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ڈینیئل ڈینیٹ ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آئے ہیں ...

دماغ کی صلاحیت – قسط: 01

  دماغ کی صلاحیت – قسط: 01 حصول علم اور تحصیلِ معلومات کے عام طور پر پانچ معروف ذرائع ہیں جنہیں حواس خمسہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جو کچھ سیکھتے اور حاصل کرتے ہیں وہ ہمیں دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان پانچ حسی خصوصیات کے علاوہ انسان کے پاس ایک اور حس بھی ہے جسے بالعموم چھٹی حس کہا جاتا ہے۔اس صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے انسان ایسے کام انجا م دے سکتا ہے جو ظاہری حواس سے ممکن نہیں ایسی صلاحیت کو ایکسٹرا سینسری پرسیپشن کہا جاتا ہے(Extra sensory perception) ایسا علم جو ظاہری حواس سے حاصل ہونا ممکن ناہو۔ اس کو اکثر چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 1 ٹیلی پیتھی۔ دوسرے شخص کے ساتھ ذہنی طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت یا کسی دوسرے کے دماغ میں اپنا پیغام پہنچانا 2باطنی نظر یا غیب بینی۔ ایسی خبر دینا جو ظاہری حواس سے حاصل کرنا ممکن نا ہو، ایسے واقعات یا اشیاء کو دیکھنے کی صلاحیت جو کسی بھی زرائع کے بغیر ممکن نا ہو 3 مستقبل کے واقعات کو دیکھنا۔ 4 سائکوکائنیسس سوچ کے ذریعے مادی اشیاء پر تصرف کرنا ان کو اپنی جگہ سے ہلانایا ان کی ہیت میں تبدیلی کرنا آج تک پوری طرح ی...