Posts

Showing posts from May, 2023

شب معراج ،فزکس اور سامی مذاھب کا تصور زماں (تیسرا حصہ)

 شب معراج ،فزکس اور سامی مذاھب کا تصور زماں (تیسرا حصہ) #نوٹ:- جو ممبران اس سلسلے پر بلکل نئے ہوں تو براہ کرم پہلے دئے گئے لنک والے تحریروں کو ملاحظہ فرمائیں کیونکہ یہ سلسلہ شب معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے جسکی دو حصے ہوچکی ہے اور انے والے تمام اقسام یہاں سے شیر کی جاے گی:- ✅ثقلی امواج کی دریافت https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/gravitational-waves.html ✅براق اور ناسا https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/gravitational-waves.html ________________________________________________ "آئن سٹائن سے بہت پہلے کی بات ہے جب سائنس یہ مانتی تھی کہ کائنات قدیم ہے۔ ٹائم ایبسولیوٹ (مطلق) ہے۔ سپیس (مطلق) ایبسولیوٹ ہے۔ اُس وقت سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے ماننے والے سائنس کی اِس بات سے انکاری تھے اور کبھی کسی مذہبی نے یہ کوشش نہیں کی تھی کہ سائنس کا کائنات کے بارے میں یہ ماننا کہ ’’کائنات قدیم ہے، ازل سے ہے، زمانہ مطلق ہے، مکان مطلق ہے‘‘ وغیرہ کو محض اس لیے تسلیم کر لیا جائے کہ یہ سائنس کہہ رہی ہے۔ اس موضوع پر،فلسفی لائبنز اور بابائ...

ثقلی أمواج (Gravitational Waves) (حصہ دوم )

ثقلی أمواج (Gravitational Waves) (حصہ دوم ) (دو ہزار 16 میں گریویٹیشنل ویوز کے نطریے نے واقعہ معراج کے امکان کو عقلا ثابت کیا) #نوٹ:- یہ سلسلہ واقعہ معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے ، اس سے پہلے "سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق" کے بارے پہلا حصہ ہوچکا ہے سب سے پہلے یہ دیکھ لیں https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/blog-post.html  ثقلی امواج پہلی بار سن دوہزار پندرہ (2015) میں دریافت ہوئیں۔ یہ ایک بہت بڑی لیبارٹری لائیگو میں نوٹ کی گئیں۔ ثقلی امواج یعنی گریویٹیشنل ویوز کی دریافت گو یا اپنی نوعیت میں ایسی دریافت ہے جیسے کائنات کا سارار از کسی نے کھول دیا ہو۔ ایک سائنسدان نے گریوٹیشنل ویوز کی دریافت پر کہا: "This is the first۔time ever that Universe has spoken to us" انسان نے ہوش سنبھالتے ہی سب سے پہلے آسمان کی طرف دیکھا۔ تین لاکھ سال پہلے کے انسان (Homosepians) ، یعنی موجودہ ماڈرن انسان سے پہلی انسان نما نسلوں کے افراد بھی اس حد تک تو آسمان سے واقف تھے کہ جب وہ اپنی غذا تلاش کرنے اور پیٹ بھرنے کے عمل سے فارغ ہو جاتے تو پھر کسی پتھر سے س...

’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق (حصہ اول)

 ’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق (حصہ اول) نوٹ:- یہ سلسلہ واقع معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے جسکا پہلا حصہ شروع ہوچکا ہے ، اسکی تمام اقساط یہاں سے پوسٹ کی جائے گی: ناسا کے زیرِ انتظام ایک مشین (شِپ) بنانے کی کوشش کی جارہے ہی جس کا نام ہے، ’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو‘‘۔ یہ شِپ سپیسٹائم میں فولڈ پیدا کردے گی، جس سے سپیسٹائم میں روشنی کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزسفر ممکن ہوسکے گا۔ چونکہ گریوٹیشنل ویو کی اپنی رفتار ہی روشنی کے برابر ہے اس لیے اس شِپ کا سفر آئن سٹائن کے قانون کی وائلیشن بھی نہ کریگا کہ کوئی شئے روشنی کی رفتار پر یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کرسکتی اور یہ شِپ روشنی کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار پر سفر بھی کریگی ۔ ’’سپیس ٹائم ورپ ڈرائیو‘‘ خود سپیسٹائم کی موج پر سوار ہو کر چلےگی اس لیے قانون کی وائیلیشن نہیں ہوسکتی۔اس کو ’’الکُو بیرے ڈرائیو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ الکُوبیرے (Alcubierre) اُس سائنسدان کا نام ہے جس نے اس مشین کو ڈیزائن کیا۔ اگر یہ شِپ کامیابی سے بنا لی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ’’البراق‘‘ کی قدرے کمزور قسم وجود میں آجائے گی۔ اِسی طرح ’’رونالڈ می...