شب معراج ،فزکس اور سامی مذاھب کا تصور زماں (تیسرا حصہ)
شب معراج ،فزکس اور سامی مذاھب کا تصور زماں
(تیسرا حصہ)
#نوٹ:- جو ممبران اس سلسلے پر بلکل نئے ہوں تو براہ کرم پہلے دئے گئے لنک والے تحریروں کو ملاحظہ فرمائیں کیونکہ یہ سلسلہ شب معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے جسکی دو حصے ہوچکی ہے اور انے والے تمام اقسام یہاں سے شیر کی جاے گی:-
✅ثقلی امواج کی دریافت
https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/gravitational-waves.html
✅براق اور ناسا
https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/gravitational-waves.html
________________________________________________
"آئن سٹائن سے بہت پہلے کی بات ہے جب سائنس یہ مانتی تھی کہ کائنات قدیم ہے۔ ٹائم ایبسولیوٹ (مطلق) ہے۔ سپیس (مطلق) ایبسولیوٹ ہے۔ اُس وقت سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے ماننے والے سائنس کی اِس بات سے انکاری تھے اور کبھی کسی مذہبی نے یہ کوشش نہیں کی تھی کہ سائنس کا کائنات کے بارے میں یہ ماننا کہ ’’کائنات قدیم ہے، ازل سے ہے، زمانہ مطلق ہے، مکان مطلق ہے‘‘ وغیرہ کو محض اس لیے تسلیم کر لیا جائے کہ یہ سائنس کہہ رہی ہے۔ اس موضوع پر،فلسفی لائبنز اور بابائے سائنس نیوٹن کے درمیان کتنے ہی مناظرے ہوئے جن میں لائبنز کا مؤقف سامی مذاہب والوں جیسا تھا کہ ’’کائنات کی ایک خاص وقت میں ابتدأ ہوئی اور یہ کبھی ختم بھی ہوسکتی ہے‘‘۔
اور نیوٹن جسے ہم بجا طور پر بابائے مادیات بھی کہہ سکتے ہیں، کا یہ مؤقف تھا کہ
’’کائنات قدیم ہے، یہ ازل سے ہے اور ہمیشہ رہیگی اور زمان و مکاں مطلق یعنی ایبسولیوٹ ہیں‘‘۔
نیوٹن اور لائبنز کے مباحث فزکس اور فلسفہ کے طلبہ کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ خاص طور پر نیوٹن کا بالٹی والا تجربہ (Bucket Experiment) بہت مشہور ہے، جس کے بعد کہتے ہیں کہ لائبنز بحث ہارگیا تھا اور نیوٹن کا مکانِ مطلق ثابت ہوگیاتھا۔
ویسے ایک بات ہے، ڈیکارٹ کا مشہور تھاٹ ایکسپری منٹ جس میں وہ کائنات کا ہر تصور مفقود کرکے ’’میں سوچتاہوں سو میں ہوں‘‘ کا نتیجہ اخذ کرتاہے، خلا (سپیس) کے تصور کو ذہن سے غائب کردینے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اسی تجربے میں وہ خود کو ایک آئینے کے سامنے غائب (Invisible) تصورکرنے میں کامیاب ہوجاتاہے اور یہ خیال قائم کرتاہےکہ ’’باڈی‘‘ کے بغیر’’ مائنڈ‘‘ کا تصور ممکن ہے لیکن’’ مائینڈ‘‘ کےبغیر ’’باڈی‘‘ کا تصور ممکن نہیں۔وہ اس تھاٹ ایکسپریمنٹ کو مزید وسیع تناظر میں اس طرح انجام دیتاہے کہ پوری کائنات کو ،بشمول اپنے جسم، حتیٰ کہ سَر اور دماغ کو بھی غائب تصورکرتاہے۔ تب وہ اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ ’’تمام تصورات‘‘ کے خاتمے کے بعد ایک تصورباقی رہتاہے اور وہ یہ ہے کہ، ’’میں ایک سوچتی ہوئی ہستی ہوں‘‘۔ میں نے جب کبھی بھی ڈیکارٹ کے اِس تجربے کو آزمایا، ہمیشہ کالی کالی خلا کا ایک تصور بھی میری نام نہاد ’’مطلق مَیں‘‘ (Absolute I) کے تصور کے ساتھ موجود رہا۔ میں نے اس الجھن کی تصدیق کے لیے دوسرے لوگوں کو ڈیکارٹ کا تھاٹ ایکسپری منٹ بار بار پرفارم کے لیے کہا اور ہمیشہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’تاریک سپیس‘‘ کا تصوربہرصورت موجود رہتاہے۔ ہم ایک پتھر سے لے کر ایک ہاتھی تک ، اپنے ہاتھوں پیروں سے لے کر سر اور پھر دماغ تک، سیارۂ زمین سے لے کر ساری کائنات کے ہر ہر آبجیکٹ تک ہر ہر تصور کو ہم باری باری غائب ہوتاہوا دیکھ سکتے ہیں۔لیکن ہم جب مادی اشیأ کو غائب (Disappeared) دیکھتے ہیں تو ، جہاں وہ تھیں، یعنی تاریک خلا، وہ جگہ تصور سے نکالی نہیں جاسکتی۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سپیس ہمارے منطقی فہم کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ذہن (مائینڈ) کا لازمی حصہ ہے۔غالباً بالکل ویسے، جیسے ’’مَیں‘‘ کا تصور ہمارے ذہن کا لازمی حصہ ہے ، ویسے ہی خلا (سپیس) بھی ذہن کا لازمی حصہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو سپیس کا مطلق ہونا اور بھی زیادہ مشکوک ہوجاتاہے اور یہ فقط ہمارے ذہن کی ایک کمی یا بیماری کے درجے کی چیز رہ جاتی ہے، کیونکہ ہمیں ’’مَیں‘‘ کے تصور کا بھی خالصتاً موضوعی تجربہ حاصل ہوتا ہے ۔ معروض میں، ’’میری مَیں‘‘ کا کوئی ثبو ت موجود نہیں۔
خیر! نیوٹن نے لائبنز کو بکٹ ایکسپری منٹ پرفارم کرکے دکھایا۔ یہ تجربہ کچھ اِس طرح ہے، آپ ایک بالٹی لیں۔ اس کو پانی سے آدھا بھر لیں۔پھر اسے ایک رسی کی مدد سےکسی چھت کےساتھ لٹکا دیں۔ اب بالٹی کو گھمانا شروع کریں۔ رسی میں بل آنا شروع ہوجائینگے۔ کچھ دیر بعد رَسی تَن جائینگی۔ تب آرام سے بالٹی کو چھوڑ دیں۔ رسی کے بل فوراً کھلنا شروع ہوجائینگے۔ بالٹی بھی گھومنے لگ جائیگی۔ بالٹی میں موجود پانی مقعر (Concave)شکل اختیار کرلے گا۔ یعنی پانی درمیان سے نیچے کی طرف دب جائیگا اور کناروں سے اوپر کو اُٹھ جائیگا۔ کچھ دیر بعد جب بالٹی کی گردش رُک جائیگی تب بھی پانی کی شکل برقرار رہے گی۔ نیوٹن سوال کرتاہے کہ پانی کی گردش کس شئے کے ساتھ ریلیٹو(Relative) ہے؟ آپ کچھ دیر سوچ کر جواب دینگے کہ ، پانی ہمارے ساتھ ریلیٹو ہے۔ یعنی بیرونی چیزوں کے ساتھ۔ تب نیوٹن آپ سے مکرر سوال کریگا کہ اگر آپ اسی بالٹی کو دُور بہت دُور ایسے تاریک خلاؤں میں تصور کریں جہاں لاکھوں میل تک کوئی ایک چھوٹا سا پتھر بھی نہ ہو ، تب اسی گھومتے ہوئے پانی کی حرکت کس شئے سے ریلیٹو ہوگی؟ کیونکہ اگر کسی شئے کے ساتھ ریلیٹو نہ ہو تو ہم یہ نہیں بتاسکتے کہ پانی گھوم رہا ہے۔ اگر ریلیٹو ہوگی تو ہم بتاسکینگے کہ پانی گھوم رہاہے۔
کہتے ہیں، اس سوال کے بعد لائبنز خاموش ہوگیا تھا۔ بعد میں اِس تجربے میں کئی نقائص نکالے گئے جو دیگر لوگوں کا کام ہے۔
نیوٹن نے اَٹھارویں صدی میں وفات پائی اور اسکے نظریات کو جس اعتقادی سطح کی حتمیت حاصل رہی اُس سے کسی اہل ِ علم کو انکار نہیں۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
Comments
Post a Comment