– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 01

 – فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy)

– قسط: 01

– فلسفہ
فلسفہ (philosophy) دراصل یونانی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ سے مل کر بنا ہے "philo" اور "sophia"۔
اس میں "philo" کا مطلب محبت اور "sophia" کا مطلب علم یا حکمت۔ یعنی فلسفے کا مطلب علم سے محبت۔
ظاہر ہے جو سماج علم سے پیار کرتا ہے وہ ترقی کرسکتا ہے اور جو سماج علم سے محبت نہیں کرتا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ فلسفہ درحقیقت تمام علوم کی ماں ہے، چاہے سیاست ہو، قانون ہو، سائنس ہو، ریاضی ہو، تاریخ ہو، غرض تمام علوم کی ماں فلسفہ ہے۔
– ہم فلسفہ کیوں پڑھتے ہیں ؟
نیوٹن نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ایک شخص دیو کے کندھوں پر کھڑا ہو جائے تو وہ اُس دیو سے بھی دور دیکھ سکتا ہے۔
اگر ہم تاریخ کو پڑھے تو ہمیں یہ بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ فلاسفرز میں ہر شعبے کے لوگ تھے۔ کچھ امیر تھے تو کچھ غریب، کچھ بادشاہ تو کچھ فقیر تھے، ان میں تھوڑے کچھ پاگل بھی تھے تو کچھ ڈاکٹر تھے لیکن بہت کم خواتین تھے جنہوں نے فلسفے میں حصہ لیا۔
– فلسفے کو پڑھنے کے تین طریقے
1) تھیمیٹیک سٹڈی (Thematic study)
2) میتھاڈالیجیکل سٹڈی (Methodological Study)
3) کرونولوجیکل سٹڈی (Chronological Study)
1) تھیمیٹیک سٹڈی (Thematic study)
اس میں ہم مابعدالطبیعات، اخلاقیات، جمالیات، علمیات وغیرہ پڑھتے ہیں۔
اگر ہم فلسفے کو theme کی نگاہ سے دیکھے تو ان میں اہم سوالات یہ آتے ہیں جیسے؛
وجود کیا ہے ؟
حقیقتِ وجود کیا ہے ؟
علم کیا اور علم کی حقیقت کیا ہے ؟
میڑیرریلزم، آئدیلزم، ریشلنزم، اور سکیفٹزم وغیرہ کیا ہیں ؟
اخلاقیات کیا ہے اور اخلاقیات کے معیارات کیا ہیں ؟
فری ول اور ڈٹرمنزم کیا ہے ؟
انسان کی قدرت کیا ہے؟
زندگی کا کیا مقصد ہے؟
ریاست کا کیا مقصد ہے؟ وغیرہ
2) میتھاڈالیجیکل سٹڈی (Methodological Study)
اگر ہم فلسفے کی میتڑڈز (Methods) کا مطالعہ کریں تو ان میں یہ آتا ہے کہ inductive method کیا ہے اور deductive method کیا ہے، جہاں ایک طرف (Plato) (افلاطون) ہے تو دوسری طرف Aristotle (ارسطو) ہے.
3) کرونولوجیکل سٹڈی (Chronological Study)
فلسفہ کو تاریخ کی نگاہ سے دیکھنا بہت ضروری ہے اگر ہم نے اس کی تاریخ کو نہیں پڑھا تو ہمیں فلسفے کی سمجھ نہیں آئی گی۔ جیسے اگر ہم ایک فلم کو بیچ سے دیکھنا شروع کرے تو اس کی کہانی کو ہم نہیں سمجھ سکیں گے۔
اگر ہم chronologically چلیں گے تو ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ ایک فلاسفر سے پہلے کون تھا، کیا تھا اور کس طرح ایک مسئلہ کے حل کے نتیجے میں دوسرا مسئلہ پیدا ہوا اور دوسرے مسئلے کے حل کے نتیجے میں کس طرح تیسرا مسئلہ پیدا ہوا اور اس طرح چوتھا اور پانچواں ۔۔۔
یعنی تاریخ اور سوچ کے ارتقا کے ڈائرکشن (direction) کو سمجھ سکیں گے، اور یہ سمجھیں گے کہ کس طرح سوال پہ سوال پیدا ہو گیا، کس فلاسفر نے کس طرح جواب دینے کی کوشش کی، ہر فلاسفر کو انفرادی سمجھ سکیں گے، اس کے سیاق و سباق کو سمجھ سکیں گے اس کے تاریخی تناظر کو سمجھ سکیں گے کہ کس طرح ایک فلاسفر نے دوسرے فلاسفر کو متاثر کیا، کس طرح دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر لوگوں کی وجہ دوسرے کونے کے لوگوں کی سوچ تبدیل ہوئی وغیرہ۔
– فلسفے کی تاریخ میں تین اہم مراکز
فلسفہ تین اہم اور بڑے مراکز پر مشتمل ہیں ؛
1) چائینیز فلسفہ (Chinese philosophy)
2) ہندوستانی فلسفہ (Indian philosophy)
3) مغربی فلسفہ (Western philosophy)
مغربی فلسفہ، جس میں روم، یمن، عیسائی، اسلامی اور ماڈرن فلاسفی سب شامل ہیں۔
فلسفے کو پڑھ کر ہم دراصل سائنس کی سوچ کو سمجھ سکیں گے، تاریخ کو سمجھ سکیں گے، آج کی سماج کو ٹھیک کر سکیں گے۔
– ایک فلاسفر کو کس طرح سمجھنا چاہیئے ؟
۰ یاد رکھے ایک فلاسفر کو کُھلے سوچ سے پڑھنا چاہئیے۔ اگر آپ اِس سوچ کے ساتھ پڑھیں گے کہ مجھے پتا ہے یا اس کو کچھ نہیں آتا تھا یا غلط تھا تو تو آپ اس فلاسفر کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکیں گے۔
۰ ہر فلاسفر کو اپنے تاریخی تناظر سے سمجھنا ضروری ہے۔ اگر آپ اسے تاریخی تناظر اور سماج سے باہر نکال دیں گے تو آپ یہ نہیں سمجھ سکیں گے کہ وہ کس حالت میں کس سوال کا جواب دے رہا تھا۔ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکیں گے ،اس لئے اس کا تاریخی پس منظر ضروری ہے۔
۰ چونکہ ہر فلاسفر کسی دوسرے فلاسفر کے سوال کا جواب دے رہا ہوتا ہے تو اس کے مخالف نقطۂ نظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
– کچھ تَحَفُّظات و تعصبات (Biases)
فلسفہ ہو، سوشیالوجی ہو یا کوئی اور سبجیکٹ ہو کچھ تحفظات و تعصبات سے آزاد نہیں ہے، اس لئے پہلے بیان کرنا ضروری ہے۔
۰ سب سے پہلے فلسفے کی تاریخ میں یہ bias (تعصب) ہے کہ کسی خاص علاقے کے بادشاہ نے تاریخ کو اپنی نگاہ سے بیان کیا ہے، خواہ وہ جنگ کی تاریخ ہو، فلسفے کی تاریخ ہو یا سیاست کی تاریخ ہو. جو بادشاہ یا جو گروہ غالب تھے وہی اپنے نقطۂ نظر سے تاریخ لکھتے تھے۔
۰دوسرا bias یہ کہ فلسفے کی تاریخ کو صرف مرد کی نگاہ سے لکھا ہے کیونکہ اس وقت مرد عورتوں پر غالب تھے۔ یعنی فلسفے کے ان اقساط میں patriarchal bias بھی شامل ہوگی۔
۰ اور آخری یہ کہ جو تاریخ پڑھتا، پڑھاتا اور لکھتا ہے اس کی اپنے خیالات بھی شامل ہوتے ہیں لہزا یہ پڑھانے والے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ اپنے تجربے کے مطابق کن فلاسفرز کو زیادہ نمایاں کرتا ہیں اور فلاسفرز کے کن کن نظریات کو زیادہ دقیق نگاہ سے پیش کرتے ہیں یعنی ان اقساط میں (pedagogical bias) بھی شامل ہوگی۔
– اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر تاریخ کو پڑھنے کا کیا فائدہ جس میں اتنے سارے تحفظات و تعصبات (biases) ہو ؟
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہم ان biases کو بھی سمجھیں گے کہ اگر مردوں نے تاریخ لکھی ہے تو کیا تاریخ لکھی ہے، اگر حکمران طبقے نے تاریخ لکھی ہے تو اس نے کیا تاریخ لکھی ہے۔ یعنی ان تحفظات و تعصبات کو کس نوعیت سے لکھی گئی ہے کیونکہ اس تاریخ کے نتیجے میں ہی ہمارا معاشرہ بنا ہے اور ان سب biases کو بھی سمجھنا بہت اہم ہے۔
جیسے ارسطو کہتا ہے کہ آپ کسی چیز سے اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن اسے مکمل طور پر سمجھنا ہی تعلیم کا مقصد ہے۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی

May be an image of 5 people

Comments

Popular posts from this blog

دماغ کی صلاحیت – قسط: 01

دماغ کی صلاحیت – قسط: 02