Posts

Showing posts from June, 2023

دماغ کی صلاحیت قسط Last

  دماغ کی صلاحیت قسط Last  ہمارا دماغ ہمیں بتاتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے، کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہے، کیا سوچنا اور کیا بولنا چاہیے۔یہ دماغ ہی ہے جو سڑکوں یا گلیوں میں پھرتے اجنبیوں کے چہروں کو یاد رکھتا ہے اور ہمیں فکروں سے بچاتا ہے۔ انسانی دماغ میں تقریباً سو ارب خلیات ہوتے ہیں جبکہ ایک دماغی خلیے کے دیگر دماغی خلیات کے ساتھ ایک ہزار سے دس ہزار تک رابطے ہوتے ہیں اور ان خلیات کے درمیان پیغامات کی منتقلی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہو جاتی ہے۔ پیدائش کے وقت انسانی دماغ کا وزن تقریباً ایک پونڈ (آدھے کلو سے بھی کم) ہوتا ہے لیکن جب انسان چھ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو دماغ کا وزن تین پونڈ تک ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب ہم کھڑا ہونا، باتیں کرنا اور چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس دوران ہمارے دماغ میں رابطوں کا ایک جال بچھنے لگتا ہے اور یوں دماغ کا وزن بڑھ جاتا ہے زندہ رہنے اور کچھ بھی سیکھنے کے لیے ہم دماغ پر انحصار کرتے ہیں مگر یہ جسم کا وہ عضو ہے جس کے بارے میں بہت کچھ اب بھی صیغہ راز میں ہے پیدائش کے وقت انسانی بچے کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، دماغ میں پہلے سے قدرت کی طرف سے ڈال...

دماغ کی صلاحیت – قسط: 02

  دماغ کی صلاحیت – قسط: 02   کیا شعور محض ایک فریب ہے؟ اور کیا انسانی دماغ محض ایک پیچیدہ مشین ہے؟ بی بی سی کے مطابق ادراکی سائنس دان ڈینیئل ڈینیٹ سمجھتے ہیں کہ ہمارا دماغ ایک ایسی مشین ہے جو اربوں چھوٹے چھوٹے 'روبوٹوں' یعنی عصبی خلیوں پر مشتمل ہے۔ تو کیا واقعی انسانی دماغ حقیقیت میں ایسا ہی ہے؟1965ء میں فلسفی ہوبرٹ ڈرائفس نے بیان دیا کہ انسان ہمیشہ کمپیوٹر کو شطرنج میں شکست دیتا رہے گا کیوں کہ انسان کے پاس وجدان کی صلاحیت ہے جس سے کمپیوٹر عاری ہے۔ ڈینیئل ڈینیٹ نے ان سے اختلاف کیا تھا۔چند برس کے اندر اندر ڈرائفس کو اس وقت خجالت کا سامنا کرنا پڑا جب انھیں ایک کمپیوٹر نے مات دے دی۔ پھر مئی 1997ء میں آئی بی ایم کے کمپیوٹر 'ڈیپ بلو' نے شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کا سپاروف کو شکست دے کر دنیا کو چونکا دیا۔ ڈینیئل ڈینیٹ کا خیال ہے کہ ہمارا دماغ اربوں روبوٹوں پر مشتمل مشین ہے جو کیمیائی سگنلوں کی مدد سے کام کرتی ہے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ کیوں کہ شطرنج منطق کا کھیل ہے، اس میں وجدان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ڈینیئل ڈینیٹ ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آئے ہیں ...

دماغ کی صلاحیت – قسط: 01

  دماغ کی صلاحیت – قسط: 01 حصول علم اور تحصیلِ معلومات کے عام طور پر پانچ معروف ذرائع ہیں جنہیں حواس خمسہ بھی کہا جاتا ہے۔ ہم جو کچھ سیکھتے اور حاصل کرتے ہیں وہ ہمیں دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن ان پانچ حسی خصوصیات کے علاوہ انسان کے پاس ایک اور حس بھی ہے جسے بالعموم چھٹی حس کہا جاتا ہے۔اس صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے انسان ایسے کام انجا م دے سکتا ہے جو ظاہری حواس سے ممکن نہیں ایسی صلاحیت کو ایکسٹرا سینسری پرسیپشن کہا جاتا ہے(Extra sensory perception) ایسا علم جو ظاہری حواس سے حاصل ہونا ممکن ناہو۔ اس کو اکثر چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ 1 ٹیلی پیتھی۔ دوسرے شخص کے ساتھ ذہنی طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت یا کسی دوسرے کے دماغ میں اپنا پیغام پہنچانا 2باطنی نظر یا غیب بینی۔ ایسی خبر دینا جو ظاہری حواس سے حاصل کرنا ممکن نا ہو، ایسے واقعات یا اشیاء کو دیکھنے کی صلاحیت جو کسی بھی زرائع کے بغیر ممکن نا ہو 3 مستقبل کے واقعات کو دیکھنا۔ 4 سائکوکائنیسس سوچ کے ذریعے مادی اشیاء پر تصرف کرنا ان کو اپنی جگہ سے ہلانایا ان کی ہیت میں تبدیلی کرنا آج تک پوری طرح ی...

– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy) – قسط: 02

Image
  – فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy) – قسط: 02 فلسفے کی تاریخ تب شروع ہوتی ہے جب لکھائی اور پڑھائی کی تاریخ شروع ہوئی، لکھائی اور پڑھائی کی تاریخ تب شروع ہوتی ہے جب شہروں کی تاریخ شروع ہوئی اور شہر تب بن پائے کہ جب Agriculture Revolution یعنی (زرعی انقلاب) ہوا جس کو Neolithic Revolution بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 12000 سال پہلے کی تاریخ ہے۔ اُس سے پہلے جتنی تاریخ تھی اُس کو ہم پتھروں کا زمانہ (stone age) کہتے ہیں جو آج سے تقریباً 3.4million پرانی تاریخ ہے۔ جب انسان خانہ بدوش اور شکاری ہوا کرتا تھا۔ زرعی انقلاب یعنی (Agriculture revolution) دراصل مصر سے شروع ہوتا ہے پھر فلسطین، اس کے بعد شام اور پھر عراق۔ یہ پورا علاقہ یعنی مصر سے لیکر شام و عراق تک، یہاں بہت سارے دریا ہیں جس کے نتیجے میں یہاں پہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔ انسان نے یہ سیکھا کہ کس طرح سے بیج (seed) کو مٹی کے اندر بویا جائے، اس کو پانی دیا جائے، اس کا خیال کیا جائے اور اس میں سے فصل پیدا کیں جائے۔ اِس کے ساتھ ساتھ تقریباً آج سے 12000 سال پہلے انسان نے یہ سیکھا کہ مٹی کے برتن کس طرح بنائے جاتے ہیں، اس کے ساتھ مٹی کے گھر ...

– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 01

Image
  – فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 01 – فلسفہ فلسفہ (philosophy) دراصل یونانی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ سے مل کر بنا ہے "philo" اور "sophia"۔ اس میں "philo" کا مطلب محبت اور "sophia" کا مطلب علم یا حکمت۔ یعنی فلسفے کا مطلب علم سے محبت۔ ظاہر ہے جو سماج علم سے پیار کرتا ہے وہ ترقی کرسکتا ہے اور جو سماج علم سے محبت نہیں کرتا وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ فلسفہ درحقیقت تمام علوم کی ماں ہے، چاہے سیاست ہو، قانون ہو، سائنس ہو، ریاضی ہو، تاریخ ہو، غرض تمام علوم کی ماں فلسفہ ہے۔ – ہم فلسفہ کیوں پڑھتے ہیں ؟ نیوٹن نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ایک شخص دیو کے کندھوں پر کھڑا ہو جائے تو وہ اُس دیو سے بھی دور دیکھ سکتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کو پڑھے تو ہمیں یہ بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ فلاسفرز میں ہر شعبے کے لوگ تھے۔ کچھ امیر تھے تو کچھ غریب، کچھ بادشاہ تو کچھ فقیر تھے، ان میں تھوڑے کچھ پاگل بھی تھے تو کچھ ڈاکٹر تھے لیکن بہت کم خواتین تھے جنہوں نے فلسفے میں حصہ لیا۔ – فلسفے کو پڑھنے کے تین طریقے 1) تھیمیٹیک سٹڈی (Thematic study) 2) میتھاڈالیجیکل سٹڈی (Methodolog...

کیا انسان مٹی سے بنایا گیا ہے ؟

Image
کیا انسان مٹی سے بنایا گیا ہے ؟ کیا آپ کو پتا ہے کہ انسانی جسم کس چیز سے بنی ہے یقینا اتنا تو ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے، کہ اسکا جسم کن کن چیزوں سے ملکر بنا ہے۔۔۔ کیونکہ ہم شجر نسل کے بارے میں تو سب کچھ جانتے ہیں...۔جب کہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارا یہ جسم کن اجزا ٕ سے ملکر بنا ہے۔۔۔۔ہمارا یہ خوب صورت جسم بہت ہی حیران کن چیزوں سے بنا ہے۔۔۔۔ جن کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ %65 اکسیجن،%18 کاربن،%10 ہاٸیڈروجن،%3 ناٸیٹروجن، %1.3 کیلشیم، %1 پاسفورس، %0.25 پوٹاشیم % 0.25سلفر، % 0.15 سوڈیم، % 0.15 کلورین، % 0.006 ایرن،%0.002 سیلکان، % 0.0001 کاپر، % 0.00017 لیڈ، 0.000646 فیصد روبیڈیم، %0.00006 لیتھیم اور مرکری 0.000003 فیصد کوبالٹ، %0.000015 نیکل،0.000017 ارسینیک اور تقریبا %0.0000006 سونا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے عناصر ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جن سب کو یہاں لکھنا مشکل ہوجاٸے گا۔ اب اگر آپ مٹی کو دیکھیں تو آپ حیران و پریشان ہوجاٸیں گے کہ مٹی میں بھی یہی سب کچھ موجود ہے۔ یعنی کاربن، اکسیجن،سوڈیم، مرکری، سونا،سیلکان، لیڈ، لیتھیم، پوٹاشیم سلفر، پاسفورس وغیرہ۔۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ مٹی میں بھی ...

مریخ کیسا دیکھتا ہے ؟

Image
  مریخ کیسا دیکھتا ہے ؟ "آسمان پر جو ستارے نظر آرہے ہیں۔اُن میں سے ہمارے سولر سسٹم کے بعض سیارے بھی موجود ہیں، جن میں سے ایک ہماری مریخ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔مریخ پر "curiosity Rover" نامی مشین اکیلا ایک دلچسپ کام سرانجام دے رہا ہے۔ جی بالکل آپ ٹھیک سنا۔۔۔یہ مشین ناسا نے 26 نومبر 2011 میں لانچ کیا تھا،،،، اور اس نے مریخ پر 6 اگست 2012 میں لینڈ کیا۔ اتنے دور سے یہ "curiosity rover" ناسا کنٹرول ڈپارٹمنٹ سالوں سے کنٹرول کررہاہے۔۔اس مشین "Curiosity Rover" کی ایک سگنل زمین کو پورے 20 منٹ بعد ملتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ناسا کے ماہرین اس 'curiosity Rover' کو آگے یا پیچھے Move کرنا چاہے، تو اسکو یہ سگنل پورے بیس منٹ بعد جب ملے گی، تب ہی یہ حرکت کرے گی۔ اس سے پہلے وہ move نہیں کرے گی۔اسکے علاوہ اگر یہ مشین مریخ سے کوٸی تصویر بھیجنا چاہے،، تو بھی تقریبا 20 منٹ بعد زمین کو پہنچے گی۔ مریخ ہماری زمین سے اس قدر دوری پر واقع ہے۔ اس لیے اگر کبھی بھی "آپ" کو اپنی تنہائی اور اکیلے پن کا احساس زیادہ ستانے لگے، تو مریخ پر curiosity rover کی تنہائی ک...

دس ارب ڈالر کی دوربین اور صرف 68GB میموری

Image
  دس ارب ڈالر کی دوربین اور صرف 68GB میموری اس وقت خلاء میں زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور Lagrange Point 2 پر سب سے طاقتور خلائی دوربین جیمز ویب کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں لگی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس 25 مربع میٹر آئینے کی مالک دوربین کے پاس خلاء کی وسعتوں میں جھانک کر ڈیٹا سٹور کرنے کے لیے صرف 68GB کی SSD ہے یعنی آپ میں سے بہت سوں کے موبائل کی میموری سے بھی کم۔ کیا یہ عجیب بات نہیں؟ عجیب تو ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہبل دوربین کو کون نہیں جانتا، ہبل ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 2GB ڈیٹا بناتی ہے جس کو TDRS (Tracking and Data Relay) نیٹورک کے زریعے زمین پر بھیج دیتی ہے۔ یہ TDRS جس کو سپیس نیٹورک بھی کہا جاتا ہے Geosynchronous satellites کا ایسا گروپ ہے جو ہبل ٹیلیسکوپ سے ڈیٹا ڈائونلوڈ کرنے اور اس کو کمانڈ پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ایک الگ سے پوسٹ موجود ہے جس میں جیمز ویب اور ہبل کی زمین کے ساتھ کمیونیکیشن کا ذکر ہے۔ جیمز ویب اگر Full time کام کرے تو 58GB کے قریب ڈیٹا بناتی ہے جس کو زمین پر 24 گھنٹوں میں بھیج دیا جاتا ہے جس کے لیے ناسا Deep ...