– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy) – قسط: 02
– فلسفہ کی تاریخ (History of philosophy)
– قسط: 02
فلسفے کی تاریخ تب شروع ہوتی ہے جب لکھائی اور پڑھائی کی تاریخ شروع ہوئی، لکھائی اور پڑھائی کی تاریخ تب شروع ہوتی ہے جب شہروں کی تاریخ شروع ہوئی اور شہر تب بن پائے کہ جب Agriculture Revolution یعنی (زرعی انقلاب) ہوا جس کو Neolithic Revolution بھی کہا جاتا ہے۔
یہ تقریباً 12000 سال پہلے کی تاریخ ہے۔ اُس سے پہلے جتنی تاریخ تھی اُس کو ہم پتھروں کا زمانہ (stone age) کہتے ہیں جو آج سے تقریباً 3.4million پرانی تاریخ ہے۔ جب انسان خانہ بدوش اور شکاری ہوا کرتا تھا۔
زرعی انقلاب یعنی (Agriculture revolution) دراصل مصر سے شروع ہوتا ہے پھر فلسطین، اس کے بعد شام اور پھر عراق۔ یہ پورا علاقہ یعنی مصر سے لیکر شام و عراق تک، یہاں بہت سارے دریا ہیں جس کے نتیجے میں یہاں پہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔
انسان نے یہ سیکھا کہ کس طرح سے بیج (seed) کو مٹی کے اندر بویا جائے، اس کو پانی دیا جائے، اس کا خیال کیا جائے اور اس میں سے فصل پیدا کیں جائے۔
اِس کے ساتھ ساتھ تقریباً آج سے 12000 سال پہلے انسان نے یہ سیکھا کہ مٹی کے برتن کس طرح بنائے جاتے ہیں، اس کے ساتھ مٹی کے گھر کس طرح بنائے جاتے ہیں اور پھر جو مختلف جانور ہیں ان کو کس طرح زرعی کاموں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہیں۔ سب سے اہم ایجاد فصل کاٹنے کیلئے درانتی (Sickle) ایجاد کی گئی اور سب سے پہلے درانتیاں جو بنی وہ پتھر کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔
پھر آہستہ آہستہ انسان نے لوہے سے درانتیاں بنانا شروع کیا اور ظاہر ہے جب درانتیاں بنی تو پھر فصل کو کاٹنا بھی
اتنا ہی آسان ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی انسان نے یہ سیکھا کہ کس طرح سے پتھر کی کلہاڑی بنائی جاسکتی ہے جس سے انسان نے جنگلات کو صاف کیا اور وہاں پہ زراعت شروع کی اور شاید سب سے اہم زرعی ایجاد "ہل" کی ایجاد تھی کہ کس طرح سے ہل چلا کر زمین کو مزید زرخیز بنایا جاسکتا ہے، یہ تقریباً آج سے 8000 سال پہلی کی تاریخ ہے۔
– پرانے شہر
1) الیپو (Aleppo)
شام کے اندر ایک شہر ہے جس کا نام Aleppo ہے وہاں پہ تقریباً 9400BC کے اندر وہ پہلے مندِر قائم ہوئے کہ جس کے اِردگرد آبادی کے نتیجے میں شاید پہلے شہر قائم ہوئے۔
2) جیریکو (Jericho)
جیریکو فلسطین کا ایک پرانا شہر ہے جو 8000BC کے اندر قائم ہوا جس کی آبادی دو سے تین ہزار تھی۔
یاد رہے اُس زمانے میں وہ جگہ جہاں دو سے تین ہزار کی آبادی ہوتی تھی اُس کو شہر مانا جاتا تھا۔
3) سُوسہ (Susa)
سوسہ ایران کے اندر ایک پرانا شہر ہے جو تقریباً 6000BC پرانا ہیں۔
4) مصر (Egypt)
مصر ایک پرانا شہر ہے جو تقریباً 6000BC/5000BC میں قائم ہوا جو کہ فرعونوں کی تاریخ سے جوڑی ہے۔
5) وادی سندھ (Indus Valley Civilization)
وادی سندھ کی تہذیب یعنی Indus Valley Civilization جو کہ تقریباً 5000BC میں قائم ہوا۔
6) چیا ڈائنسٹی (Xia Dynasty)
چین میں چیا ڈائنسٹی تقریباً 4000BC میں قائم ہوا۔
غرض یہ کہ اب ہمیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کس جگہ سے زرعی انقلاب شروع ہوا اور کیسے پہلے شہر قائم ہوئے جہاں پر پھر بتدریج فلسفہ پیدا ہوا۔
– کانسی کا دور (Bronze age)
تقریباً 6000BC میں یعنی آج سے آٹھ ہزار (8000) سال پہلے انسان نے کانسی یعنی Bronze کی ایجاد سیکھی۔ یہ copper اور Tin کو ملا کر بنایا جاتا ہے جو کہ copper سے سخت ہوتا ہے، اس نئی دھات (metal) سے انسان نے اَوزار بھی بنائے اور ہتھیار بھی۔
اوزار (tools) کا یہ فائدہ ہوا کہ اس سے انسان کی پیداواری قوتوں میں بہت بڑا بہت اضافہ ہوا۔
– زائد پیداوار اور حکومت و بادشاہت
انسان اب اتنا کچھ پیدا کر سکتا تھا کہ اپنی بنیادی اور اپنی سماج کی ضروریات سے بھی بہت زائد تھا جس کو ہم زائد پیداوار یعنی (Surplus Product) کہتے ہیں۔
زائد پیداوار (Surplus product) کے نتیجے میں پرانے قبیلوں کی قیادت بتدریج حکمران طبقے میں تبدیل ہوئی، جہاں سے پھر ریاست بنی اور ریاست کے ساتھ بادشاہت قائم ہوئی۔
یہی وہ دور ہے کہ جب مردوں نے عورتوں پر غلبہ حاصل کیا اور یہی وہ دور تھا کہ جب ایک قبیلے نے ہتھیاروں کے زریعے دوسرے قبیلے پر حملہ کرنا شروع کیا اور جس قبیلے کو وہ فتح کرلیتے تھے اُس قبیلے کو وہ اپنا غلام بنا لیتے تھے۔ تو یہاں یعنی تقریباً 6000BC سے ہی غلامی کا تصور اُبھر جاتا ہے۔
– لوہے کا دور (Iron age)
برانز ایج (Bronze age) کے بعد لوہے (iron) کا دور شروع ہوتا ہے۔ لوہے کا دور (Iron age) تقریباً 3000BC میں شروع ہوتا ہے اور نائیجیریا (Nigeria) کے اندر پہلی دفعہ لوہے کو پگھلا کر مختلف اوزار (tools) کے اندر تبدیل کیا گیا۔ آئرن (iron) بہت ہی نرم ہوتا ہے مگر آئرن (iron) کو جب کاربن (Carbon) کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں سٹیل (Steal) بنتا ہے جو کہ آئرن اور برانز سے سخت ہوتا ہے۔ سٹیل کا بہت اہم استعمال "ہل" چلانے میں استعمال ہوا جس کے نتیجے میں زراعت کی پیدواری قوتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔
یہی وہ دور ہے جس کو ہم آئرن ایج (Iron age) کہتے ہیں اور یہی وہ دور ہے کہ جب انسان نے سب سے پہلے لکھائی کی دریافت کی اور جیسے ہی لکھائی دریافت ہوئی تو مختلف حروفِ یعنی (Alphabets) کی دریافت ہوئی، نتیجتاً سب سے پہلا ادب (Literature) پیدا ہوا اور سب سے پہلے تاریخی ریکارڈز (Historical records) قائم ہوئے۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی

Comments
Post a Comment