مریخ کیسا دیکھتا ہے ؟

 مریخ کیسا دیکھتا ہے ؟

"آسمان پر جو ستارے نظر آرہے ہیں۔اُن میں سے ہمارے سولر سسٹم کے بعض سیارے بھی موجود ہیں، جن میں سے ایک ہماری مریخ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔مریخ پر "curiosity Rover" نامی مشین اکیلا ایک دلچسپ کام سرانجام دے رہا ہے۔ جی بالکل آپ ٹھیک سنا۔۔۔یہ مشین ناسا نے 26 نومبر 2011 میں لانچ کیا تھا،،،، اور اس نے مریخ پر 6 اگست 2012 میں لینڈ کیا۔ اتنے دور سے یہ "curiosity rover" ناسا کنٹرول ڈپارٹمنٹ سالوں سے کنٹرول کررہاہے۔۔اس مشین "Curiosity Rover" کی ایک سگنل زمین کو پورے 20 منٹ بعد ملتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ناسا کے ماہرین اس 'curiosity Rover' کو آگے یا پیچھے Move کرنا چاہے، تو اسکو یہ سگنل پورے بیس منٹ بعد جب ملے گی، تب ہی یہ حرکت کرے گی۔ اس سے پہلے وہ move نہیں کرے گی۔اسکے علاوہ اگر یہ مشین مریخ سے کوٸی تصویر بھیجنا چاہے،، تو بھی تقریبا 20 منٹ بعد زمین کو پہنچے گی۔ مریخ ہماری زمین سے اس قدر دوری پر واقع ہے۔
اس لیے اگر کبھی بھی "آپ" کو اپنی تنہائی اور اکیلے پن کا احساس زیادہ ستانے لگے، تو مریخ پر curiosity rover کی تنہائی کا احساس کرکے "آپ" خود کو با اسانی اطمینان دلا سکتے ہیں۔ جو گزشتہ 10 سالوں سے وہاں پر اپنا کام بالکل اکیلے میں سر انجام دے رہا ہے۔مریخ کو explore کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس Rover کا ہی ہے۔ اس نے ہمیں بتایا کہ مریخ کیسا دیکھتا ہے۔اس کا ماحول کیسا ہے؟ وہاں پر ایلین تو نہیں ہے ؟ وہاں انسان کیسے اور کتنی دیر تک رہ سکتا ہے؟ یہ ساری معلومات Rover سالوں سے بیھج رہا ہے۔نیچے جو تصویر آپ لوگ اس وقت دیکھ رہے ہیں۔ یہ تصویر مریخ کی ہے جو curiosity rover سے لی گٸی ہے۔ ایلن ماسک کا کہنا ہے کہ سال 2050 تک ہم مریخ پر ایک خوبصورت سٹی بنائيں گے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

تحریر Tehsin Ullah Khan
May be an image of monument

Comments

Popular posts from this blog

دماغ کی صلاحیت – قسط: 01

– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 01

دماغ کی صلاحیت – قسط: 02