ثقلی أمواج (Gravitational Waves) (حصہ دوم )
ثقلی أمواج (Gravitational Waves)
(حصہ دوم )
(دو ہزار 16 میں گریویٹیشنل ویوز کے نطریے نے واقعہ معراج کے امکان کو عقلا ثابت کیا)
#نوٹ:- یہ سلسلہ واقعہ معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے ، اس سے پہلے "سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق" کے بارے پہلا حصہ ہوچکا ہے سب سے پہلے یہ دیکھ لیں
https://netflixofeducation.blogspot.com/2023/05/blog-post.html
ثقلی امواج پہلی بار سن دوہزار پندرہ (2015) میں دریافت ہوئیں۔ یہ ایک بہت بڑی لیبارٹری لائیگو میں نوٹ کی گئیں۔ ثقلی امواج یعنی گریویٹیشنل ویوز کی دریافت گو یا اپنی نوعیت میں ایسی دریافت ہے جیسے کائنات کا سارار از کسی نے کھول دیا ہو۔ ایک سائنسدان نے گریوٹیشنل ویوز کی دریافت پر کہا: "This is the first۔time ever that Universe has spoken to us"
انسان نے ہوش سنبھالتے ہی سب سے پہلے آسمان کی طرف دیکھا۔ تین لاکھ سال پہلے کے انسان (Homosepians) ، یعنی موجودہ ماڈرن انسان سے پہلی انسان نما نسلوں کے افراد بھی اس حد تک تو آسمان سے واقف تھے کہ جب وہ اپنی غذا تلاش کرنے اور پیٹ بھرنے کے عمل سے فارغ ہو جاتے تو پھر کسی پتھر سے سر لگا کر آسمان کی طرف دیکھا کرتے اور اپنی سطح کی حد تک سوچا کرتے۔ رات ہوتی تو ستاروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ آسمان شروع دن سے ہی انسان کے لیے سب سے بڑی مسٹری رہا ہے۔ پھر ماڈرن مین نے تو ، جو آج سے لگ بھگ پچیس ہزار سال پہلے نمودار ہوا، با قاعدہ آسمان پر اتنا غور کیا کہ علوم کے دفتر کے دفتر کھول ڈالے۔ ابتدائی کانسی کے دور کے انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان کو ایک بڑا سا الٹا پیالہ تصور کرتے تھے جو زمین پر اس طرح رکھا ہے کہ اس نے زمین کو ڈھانپ دیا ہے۔ اس میں بہت سے سوراخ ہیں جو بند رہتے ہیں۔ کائنات پانی سے بھری ہوئی ہے۔ جب کبھی یہ سوراخ کسی وجہ سے کھلتے ہیں تو ان سوراخوں سے کائنات کا پانی نیچے گرنے لگتا ہے۔ قدیم تاریخ میں مصریوں کے علاوہ بابل وہ شہر ہے جہاں فلکیات پر بے پناہ غور و فکر ہوا۔ بابل میں زیگورات کا مندر چار سوفٹ بلند تھا۔ بابل کی دیو مالا کا یہ قصہ بہت مشہور ہے کہ ار زیگورات مندر کی چھت سے زہرہ جمال رقاصہ، بیدخت نے شاہ یو سیفر کی قبا پہن، اور ہاروت مازوت سے سیکھا ہوا اسم اعظم پڑھ کر پرواز کی، اور دور آسمانوں پر جاکر زہرہ ستارہ بن گئی۔ آج جو زہرہ ستارہ نظر آتا ہے یہ وہی رقاصہ ہے۔
33
آسمان کا جادو ہر انسان اس کے بچپن سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اسے بچپن سے ہی طرح طرح کی کہانیاں سنے کو ملتی ہیں جن میں چاند پر بیٹھی چرخہ کاتی بڑھیا سے لے کر ڈور ثریا سے آنے والی اُڑن طشتریوں تک کے قصے شامل ہیں۔ انسان کی یہ خواہش کہ وہ کائنات کو جانے، شاید آسمانوں کو جانے میں چھپی ہے۔ وہ ہمیشہ سے آسمانوں کی طرف جانا چاہتا ہے اور اپنے بارے میں نہ جانے کیوں یہی سمجھتا ہے کہ وہ آسمانوں سے ہی آیا ہوا ہے۔ فزکس نے یہ ذمہ داری قبول کی اور ہمارے طبیعات دانوں نے صرف دو صدیوں کے اندر اندر یہ ثابت کر دیا کہ انسان نہ صرف کائنات کی حقیقت جاننے کا اہل ہے بلکہ کائنات کے کلیجے میں ہاتھ ڈال کر اس میں تبدیلیاں کر سکنے کا بھی اہل ہے۔
گزشتہ صدی میں آئن سٹائن کا وجود کسی معجزے کی طرح نمودار ہوا اور بے پناہ قابلیت کے حامل اُس کے دماغ نے بارہا انسانوں کو اس شک میں مبتلا کر دیا کہ آیاوہ خود انسان ہی تھا یا کسی اور دنیا سے آیا ہوا کوئی ایسا عالی دماغ دیوتا تھا، جو اہل زمین کو کائنات کے راز بتانے آیا اور پھر واپس چلا گیا۔ آئن سٹائن نے 1905 میں سپیشل تھیوری آف ریلٹوٹی پیش کی اور 1915 میں جنرل تھیوری آف ریلٹوٹی پیش کی۔ یہ دونوں نظریہ ہائے اضافیت نہ صرف عجیب و غریب اور محیر العقول ہیں بلکہ ان کے جانے اور ان سے پیدا ہونے والے نتائج پر قابو پانے کی صورت میں انسان اپنی موجودہ انسانی سطح سے یکلخت بلند ہو کر کسی اور نوع میں بدل جانے کی صلاحیت کا اہل بھی ہو سکتا ہے۔
تقلی امواج کا خیال ، آئن سٹائن کو پہلی بار جنرل ریٹوٹی تشکیل دیتے وقت آیا تھا۔ جنرل ریلیٹویٹی سے پہلے آئن سٹائن نے اسپیشل ریلٹوٹی پیش کی۔ اسپیشل ریلٹوٹی زمان و مکاں کا جدید نظریہ ہے۔ اسپیل ریلیٹیویٹی میں زمانہ اور مکان آپس میں مدغم کر دیے گئے ہیں۔ یہ اب گویا دو الگ الگ تصورات نہیں ہیں بلکہ ایک ہی تصور ہے، جسے آئن سٹائن نے سپیس ٹائم " کا نام دیا۔ سپیس ٹائم میں زمانہ اور مکان ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں جیسے آپس میں پرو دیے گئے ہوں۔ ان کے درمیان بڑا لچکدار سا رشتہ ہے۔ کچھ اس طرح کا رشتہ جیسے ربڑ کی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ یعنی جب ٹائم پھیلتا ہے تو سپیس سکڑ جاتی ہے اور جب ٹائم سکڑتا ہے تو سپیس پھیل جاتی ہے۔ ٹائم اور سپیس کے ، گویا دھاگے سے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک جال سائن دیتے ہیں۔
34
جب کبھی سپیس ٹائم کے اس جال میں کوئی بھاری مادی جسم آجائے تو سپیس ٹائم کی فیبرک میں سلوٹیں پڑ جاتی ہیں۔ اور سپیسٹائم کی سیدھی لائنیں مڑ (bend) کر قوسی اوردائروی شکلیں اختیار کر لیتی ہیں۔
1907 میں آئن سٹائن ایک پیٹنٹ (patent) کلرک تھا۔ ایک دن وہ اپنے دفتر کی کھڑ کی کھولے سامنے والی بلند عمارت کو یہ سوچتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اگر کوئی شخص اس عمارت سے نیچے گرے تو وہ کیسا محسوس کریگا؟ بس اتنا سادہ سا سوال اس کے ذہن میں تھا۔ معا اسے خیال آیا کہ وہ شخص اپنے آپ کو گرتا ہوا محسوس ہی نہیں کرے گا۔ کیونکہ جب ہم بلندی سے گرتے ہیں اور اپنے آپ کو گرتا ہوا محسوس کرتے ہیں تو دراصل ہمارے جسم کے ساتھ ہوا کے مالیکیول ٹکرارہے ہوتے ہیں، اور ہوا کی رگڑ کی وجہ سے ہمیں اپنا آپ گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی ڈبے میں بند ہوں اور وہ ڈبہ گھومے بغیر یعنی سید ھاسید ھا نیچے گر رہاہو تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ ہم گر رہے ہیں۔ خلا میں معلق چیز اور زمین پر گرتی ہوئی چیز دونوں آپس میں برابر ہیں۔ اگر ہم ایک ڈبے میں بند ہوں اور خلا میں موجود ہوں تب بھی ہمیں یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ ہم خلا میں موجود ہیں یازمین پر گر رہے ہیں۔
خلا میں تیرتے ہوئے
زمین پر گرتے ہوئے
جب تک ہم زمین پر گر نہیں جاتے ، بند ڈبے میں ہمیں یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ ہم گر رہے ہیں۔ یہ آئن سٹائن کا وہ خیال تھا، جسے آئن سٹائن نے باقی تمام عمر جب بھی یاد کیا، بے پناہ مسرت کے ساتھ یاد کیا۔ آئن سٹائن کہا کرتا تھا کہ یہ اس کی زندگی کی سب سے بہترین سوچ تھی۔ بس اتنی سوچ آنے کی دیر تھی کہ آئن سٹائن پر کائنات کی فیبرک کا راز کھل گیا۔ آئن سٹائن نے اعلان کیا کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی، بلکہ ایک لحاظ سے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ چیزیں اپنی جگہ پر ہی رہتی ہیں جبکہ زمین او پر کو اٹھ کر ان کی طرف لپکتی ہے۔ یا یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ آسمان (سپیس ٹائم کی فیبرک) چیزوں کو زمین کی طرف دھکیلتا ہے۔ کوئی بھی گرتی ہوئی شئے جسے ہم نیوٹن کی فزکس کے مطابق حالت اسراع میں یعنی ایکسیلیریڈ سمجھتے ہیں دراصل ایکسیلیر یٹڈ ہوتی ہی نہیں ہے۔ مزید سادہ الفاظ میں وہ نیچے کی طرف گرتے ہوئے اپنی رفتار کو مسلسل بڑھا نہیں رہی ہوتی جیسا کہ ہم نیوٹن کی فزکس میں پڑھتے ہیں۔ بلکہ تصور کیا جائے کہ وہ آبجیکٹ جو زمین پر گر رہا ہے، اپنی جگہ رکاہوا ہوتا ہے اور زمین گویا اوپر کو اٹھ کر اسکی طرف لپک رہی ہوتی ہے۔ زمین کے اوپر کی طرف اٹھنے کی اینالوجی اگر چہ بہت زبر دست نہیں ہے لیکن اس خیال کا ائیڈیا بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسے آئن سٹائن کا "ایکو لیٹس پرنسپل" بھی کہتے ہیں۔ جس کے مطابق نان از شیل فریم یعنی ایمیلیریٹیڈ فریم اور گریویٹیشنل فریم ایک جیسے ہیں۔ اس خیال کے بعد آئن سٹائن نے جنرل تھیوری جو بنیادی طور پر کشش نقل یعنی گریوٹی کی ہی تھیوری ہے ، پر کام شروع کر دیا اور بالآخر دنیا کو ایک نہایت حیران کن نظریہ کا تحفہ دے کر انسانی علم کی عظمت کو امر کر دیا۔
آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلٹوٹی سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح سورج زمین اور دیگر سیاروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اسی طرح ہر بڑا آبجیکٹ چھوٹے آبجیکٹس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کھینچا تانی میں سیارے ستاروں کے گرد گھومنے لگ جاتے ہیں۔ آئن سٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹوٹی نے اس خیال کو بالکل بدل دیا۔ آئن سٹائن نے بتایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ بھاری اجسام، ہلکے اجسام کو اپنی طرف نہیں کھینچ رہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری کائنات ایک خاص قسم کے ریشوں یعنی سپیس ٹائم کے دھاگوں سے بن کر بنائی گئی ہے۔ یہ خاص قسم کے ریشے جو ر بر بینڈ کی طرح لچکدار ہیں، زمانے اور مکان کے دھاگے ہیں۔ ربڑ کے ان دھاگوں سے کائنات کی فیبرک (کپڑا) کو بنا گیا ہے۔ اس فیبرک کی بنائی میں وہ دھاگے جو افقی ہیں ، وہ سپیس (مکان) کے دھاگے ہیں اور وہ دھاگے جو عمودی ہیں وہ ٹائم (وقت) کے دھاگے ہیں۔ اسی وجہ سے اس فیبرک کا نام سپیس ٹائم فیبرک ہے۔ آئن سٹائن نے کہا کہ جب کوئی بھاری بھر کم جسم یعنی کوئی سیارہ ستارہ اس فیبرک میں سے گزرتا ہے تو وہ جہاں جہاں سے گزرتا ہے اس جگہ کی فیبرک، جس کے ریشے ربر بینڈ کی طرح سے لچکدار ہیں، اس بھاری آبجیکٹ کے آس پاس سے سکڑ جاتی ہے اور اُس آبجیکٹ کے سانچے جیسی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ گندھے ہوئے آٹے میں ایک گیند دبا کر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس آٹے میں گیند کے لیے سانچہ نما جگہ بن جاتی ہے۔ سپس ٹائم فیبرک میں بھی ایسی ہی سانچہ نما شکلیں بنتی ہیں، جب کوئی جسم اس میں سے گزرتا ہے یا موجود ہوتا ہے۔ ہم بچپن میں کبھی کبھار کانٹی کی گولی (کہنچے ) کو کسی بڑے سے پیالے میں ڈال کر پیالے کو کچھ اس طرح گول گول حرکت دیا کرتے تھے کہ کانچ کی گولی پیالے کی دیواروں پر چڑھ کر گول گول دائرے میں گھومنے لگتی تھی۔ یا دوسری مثال موت کے کنویں میں چلنے والے موٹر سائیکل کی ہے جو تیزر قھار کی وجہ سے گو یا دیواروں کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اس لیے نیچے نہیں کرتا۔ ہمارا چاند بھی ایساہی ایک کنچہ ہے، جو اسپیس ٹائم میں زمین کی وجہ سے پڑ جانے والے گریوٹی ویل (gravity well) میں کسی موت کے کنویں کے موٹر سائیکل کی طرح سے گردش کر رہا ہے۔ آئن سٹائن نے بتایا کہ کائنات کی اس فیبر ک میں جہاں جہاں بھی ستارے، سیارے یا سیارچے ہیں وہاں وہاں اس فیبرک میں ایک گڑھا سا پڑا ہوا ہے۔ جتنا بھاری کوئی آبجیکٹ ہوتا ہے اتنا ہی بڑا گڑھا اس فیبرک میں پڑ جاتا ہے۔ یعنی ہمارا سورج جو ایک بہت بڑا اور بھاری آبجیکٹ ہے اس کے ارد گرد کی سپیس ٹائم فیبرک نے بھی ویسی شکل اختیار کر رکھی ہے جیسے گند ھے ہوئے آٹے میں دبائی گئی گیند کے اطراف میں آنے کی شکل ہو جاتی ہے۔ سورج کی وجہ سے سپیس ٹائم فیبرک میں ایک بہت بڑا گڑھا پیدا ہو گیا ہے۔ اسے گریوٹی ویل (Gravity Well) یعنی کشش شکل کا کنواں کہتے ہیں۔ ہماری زمین اور دیگر سیارے اُن کانچ کی گولیوں کی طرح ہیں جو پیالے کی دیواروں پر چڑھ کر گردش کرنے لگتی ہیں۔ یا موت کے کنویں کے ان موٹر سائیکلوں کی طرح ہیں جو موت کے کنویں کی دیواروں پر دوڑتے ہیں۔ سورج کے گریوٹی ویل یعنی کشش ثقل کے کنویں میں زمین ایسی ہی ہے۔ لیکن زمین کے اپنے اطراف میں بھی تو اس فیبرک کے اندر ایسا ہی ایک گڑھا پیدا ہو رہا ہے۔ ہمارا چاند اُس گڑھے میں پھنسا ہوا ہے۔ اور بالکل ویسی ہی حرکت کر رہا ہے جیسی کانچ کی گولی پیالے کی دیواروں پر گردش کے وقت کرتی ہے۔ چاند کے لیے ہماری زمین کا گریوٹی ویل ہی گردش کا باعث ہے۔
یاد رہے کہ جب ہم سپیسٹائم کی فیبرک کو ربڑ کی طرح لچکدار کہتے ہیں تو یہ فقط ایک مثال یا اینالوجی ہوتی ہے۔ اسپیس ٹائم کی فیبرک کچھار تو ہے لیکن ربڑ جیسی نرم نہیں ہے۔ یہ فی الاصل بہت ہی زیادہ سخت (rigid) ہے۔ لیکن چونکہ اس میں سے گزرنے والے اجسام بہت بھاری اور بہت بڑے ہوتے ہیں اس لیے وہ اس میں گڑھا ڈال دیتے ہیں۔
آئین اسٹئائین نے اسپیس ٹائم فیبرک کی جو تصویر فزکس کو دکھائی وہ بڑی عجیب، غریب تھی۔ کیونکہ ربر بینڈ جیسی لچک ہونے اور پھر فیبرک میں افقی و عمودی ہر دوطرح کے ریشے ہونے کیوجہ سے پوری کی پوری کائینات کے زمان ونگاں کی ساخت ربڑکی طرح لچک دار ہو جاتی ہے۔ صرف ربڑ کی طرح نہیں بلکہ کسی سیال مادے کی طرح یا سمندر کی طرح اس فیبرک میں اشیاء کے گرنے سے موجیں پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح سمندر میں بھنور پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح اس فیبرک میں بھی بھنور پیدا ہوتے بھنور، گورداب، چھوٹی موجیں ripples) ، بڑی موجیں (tides)، گڑھے، کنویں، ڈمپل، غرض ہر قسم کی موجی حرکت اسپیس ٹائم فیبرک میں بھی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ جس طرح سمندر میں کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ ایک بڑی موج کسی دوسری بڑی موج سے جاملتی ہے۔ بعینہ اس طرح، سپیس ٹائم فیبرک میں بھی ہوتا ہے۔ لیکن اسپیس ٹائم کی موجیں زمان اور مکان کی موجیں ہیں، اور اس لیے ایسی دو موجوں کے درمیان نہ جانے کتنے زمانوں اور مکانوں کا فاصلہ پڑ جاتا ہے۔ اسپیسں ٹائم کے بھنوروں کو ورم ہول wormwhole) کہا جاتا ہے۔ اسپیس ٹائم میں بعض اتنے بھاری اجسام بھی ہیں جن کے ماس کی وجہ سے سپیس ٹائم میں گویا سوراخ ہو جاتا ہے۔ ایسے سوراخ کو بلیک ہول کہتے ہیں۔ گریویٹیشنل ویو یا ثقلی موج اسپیس ٹائم کی فیبرک میں پیدا ہونے والی موجوں کو کہا جاتا ہے۔ دور کائنات میں جب کبھی کوئی دو بلیک ہول یا نیوٹران اسٹارز آپس میں ٹکرائے ہوتے ہیں تو کائنات کی سپیس ٹائم فیریک میں دور دور تک بہت بڑے پیمانے کا بھونچال آجاتا ہے۔ جس جگہ دو بلیک ہول آپس میں ٹکرائے ہوتے ہیں، وہاں سے ایک گریویٹیشنل ویو روشنی کی رفتار سے روانہ ہوتی ہے اور پوری کائنات میں پھیل جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک موج کو ہم انسانوں نے دو ہزار پندرہ میں ڈیٹیکٹ کیا تھا ۔
اسپیس ٹائم فیبرک فولڈ بھی ہو جاتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھایا جاتا ہے۔ مثلاً آپ ایک بڑا سا کاغذ یا چارٹ ایک میز پر بچھائیں اور اس پر کافی فاصلوں پر دو دائرے لگائیں۔ فرض کریں آپ نے دوفٹ کے فاصلے پر یہ دائرے لگائے۔ تب آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک دائرے سے دوسرے دائرے کا فاصلہ دو فٹ ہے۔ لیکن اگر آپ وہی چارٹ اُٹھا لیں اور اسے فولڈ کر لیں یعنی تہہ کر لیں اور اس طرح تہہ کریں کہ اُس پر لگائے گئے دائروں کے نشان ایک دوسرے کے بالکل سامنے آجائیں۔ تب آپ ان میں سوراخ کر دیں تو آپ ایک دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے میں فور داخل ہو سکتے ہیں۔ آپ نے کاغذ کو تہہ کر دیا۔ اس لیے ان دو دائروں کا فاصلہ اب ایک فٹ تو کیا ایک انچ بھی نہیں رہ گیا۔ اسی طرح سپیس ٹائم فیبرک بھی فولد ہو جاتی ہے۔ سپیس ٹائم فیبرک فولڈ ہونے سے ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک گویا دروازہ ساکھل جاتا ہے۔( واقعہ معراج کو سمجھنے کیلئے یہ چیز ہماری مدد کرے گی)...
ایک مثال یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ آپ سمندر میں ایک بڑی موج پر سکیٹنگ کر رہے ہیں۔ یہ موج اوپر کو اٹھتی ہے اور بہت بلند ہو جاتی ہے تو آپ بھی اس کے ساتھ اتنے ہی اوپر کو اٹھتے اور بلند ہو جاتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک اور بڑی موج دوسری طرف سے آئی ہے اور وہ بھی اتنی ہی بلند ہے اور آپ چھلانگ لگا کر دوسری موج پر سوار ہو جاتے ہیں۔ تو آپ بہت کم وقت میں سمندر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جمپ کر گئے ہیں۔ اس طرح سپیس ٹائم میں بھی ایک زمان و مکاں سے دوسرے زمان و مکاں تک پہنچنے کا تصور پایا جاتا ہے۔
یہ موجیں یا بھنور چونکہ سپیس اور ٹائم کی فیبرک میں پیدا ہو رہے ہیں اس لیے عجیب و غریب چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ یعنی اگر آپ ایک ورم ہول میں ایک طرف سے آج داخل ہوئے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ دوسری طرف سے بر آمد ہوں تو بہت دور ماضی میں کہیں جا نکلیں۔ یا پھر اتنا بعید مستقبل ہو کہ آج سے پانچ ہزار سال بعد وغیرہ وغیرہ۔
اسپیس ٹائم فیبرک میں پیدا ہونے والی موجوں کو اگر چہ گریوٹی کی موجیں کہا جاتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو گریوٹی نامی کسی شئے کا وجود نہیں ہے بلکہ یہ سپیس اور ٹائم سے بنی گئی فیبرک ہے جس کا وجود ہے اور جو مادے کے قریب اسی مادے کی شکل کا گڑھا سا بنا لیتی ہے۔ وہی سانچہ کبھی کبھی گریوٹی ویل یعنی کشش نقل کا کنواں کہلاتا ہے جس میں چھوٹے ابجیکٹ گردش کرتے رہتے ہیں۔
گریوٹی کی موجیں چونکہ پوری کائنات میں ہیں اور ہر وقت، ہر طرح کی پیدا ہور ہی ہیں اس لیے یہ جس بھی مادی آبجیکٹ کے پاس سے گزرتی ہیں وہ آبجیکٹ بھی کسی لچکدار ربڑ کی گیند کی طرح ان موجوں کے اثر میں تھوڑا سا سکڑتا یا پھیلتا رہتا ہے۔ سائنسدانوں نے آئن سٹائن کی بات مانتے ہوئے فرض کیا کہ زمین بھی ان موجوں کے اثر سے کبھی سکڑ یا پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح زمین پر موجود تمام اشیا بشمول انسان ، ان موجوں کے اثر میں ضرور تھوڑے سے سکڑتے یا پھیل جاتے ہیں۔ یہ بڑی مزیدار صورتحال ہے۔ یعنی فرض کریں کسی دور دراز کے بلیک ہول سے ایک گریوٹی ویو آئی اور زمین سے ٹکرائی تو زمین کسی لچکدار گیند کی طرح تھوڑی سی سکڑ گئی اور اس پر موجود چیزیں بھی۔ فرض کریں آپ اسوقت تھوڑے سے لمبے اور پتلے ہو گئے۔ لیکن آپ کو پتہ نہ چلا کیونکہ یہ تبدیلی بہت باریک ہوتی ہے۔ گریوٹی و یوز کو دریافت کیسے کیا گیا؟ یہ سوال دلچسپ ہے ۔ وہ سائنسی ادارہ جس نے اعلان کیا کہ گر یوٹی ویوز کو دریافت کر لیا گیا ہے اس کا نام لائیگو LIGO) ہے۔ لیزر انفرامیٹرگریوٹیشنل ویو آبزرویٹری
(Laser Interferometer Gravitational-wave Observatory) کامخفف ہے
لائیگو کاطریقہ کار نہایت سادہ ہے جو کسی بھی انسان کو آسانی سے سمجھ آسکتا ہے۔ لائیگولیبارٹری در اصل دو بڑے بلکہ لمبے پائپوں (Pipes) پر مشتمل ہے۔ ان پائیوں کو انگریزی کے حرفی ایل (L) کی شکل میں جوڑ دیا گیا ہے۔ کچھ اس طرح کہ دونوں پائیپوں کا ایک ایک سرا آپس میں جڑا ہے جہاں دوسرا سرا کھلا ہے اور ایل کی شکل بنارہا ہے۔ یہ دونوں پائپ لمبائی میں بالکل برابر ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی لائییگو جیسے ایک لمبائی کے پائیوں کا تصور محال ہے کیونکہ لائیگو جیسے ایک لمبائی کےپائیپوں کی لمبائی کو ایک پروٹان سے بھی بار یک سطح پر ایک دوسرے سے لمبا یا چھوٹا نہیں رہنے دیا گیا۔ دونوں پائپ آخری حد تک ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ دونوں پائپ جہاں سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں وہاں سے روشنی کی ایک شعاع فائر کی جاتی ہے۔ جو ایک ہی وقت میں سفر کرتی ہوئی پائپ کے دوسرے سروں سے ٹکراتی اور پھر وہاں لگے اعلیٰ درجے کے آئینوں سے منعکس ہو کر واپس آتی ہے۔ اور واپس آکر پھر اسی مقام پر ، جہاں سے چھوڑی گئی تھی ایک دوسرے کو قطع (یعنی کراس کرتی ہے۔ سائنس دانوں نے سوچا کہ اگر دونوں پائیوں کو اس طرح برابر رکھا جائے کہ وہ شعائیں جب واپس آئیں تو دونوں طرف کی شعائیں آپس میں ڈسٹر کٹو انٹر نٹرنس پیٹرن (destructive interference pattern) بناتے ہوئے ایک دوسرے کو کینسل کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کامیابی سے جائزہ لیا جاتا رہا کہ وہ آپس میں انٹر فئرنس پیٹرن بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو کیسنل کر رہی ہیں۔ لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ یہ شعائیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری انٹر فٹرنس پیٹرن (constructive Interference pattern) بنائیتی اور ایک دوسرے کو کینسل نہیں کرتیں بلکہ ایک نئی موج کی صورت باہر نصب ایک الگ آئینے سے جا ٹکراتی ہیں۔ یہی بات اہم تھی۔ یہ سوال کہ جب دونوں پائپوں کی لمبائی کی پیمائش اتنی بار یک حد تک ایک دوسرے کے برابر ہے تو پھر ایسا کیوں ہو جاتا ہے کہ وہاں شعاعیں ایک دوسرے سے ٹکر اکر ایک دوسرے کو کینسل کرنے کی بجائے ایک تیسری شعاع بن کر ظاہر ہوتی ہیں تب اندازہ لگایا گیا کہ ضرور کسی وجہ سے یہ دونوں پائپ یا تو اچانک لمبے ہو جاتے ہیں یا چھوٹے۔ سائنسدان جب کسی شئے کی پیمائش کرتے ہیں تو آخری حد تک احتیاط کرتے ہیں۔ اور کوشش کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسائل ریاضی سے حل کیے جائیں۔ چنانچہ پیمائیشیں انتہائی احتیاط سے کرنے کے باوجود بھی جب ایسا ہو تا رہا کہ دونوں پائیپوں کی شعائیں کبھی کبھار انٹر فیرنس پیٹرن بنا تیں تو یہ یقین کر لیا گیا کہ یہ پائپ کسی وقت چھوٹے ہو جاتے ہیں یالمبے اور ایسا اس لیے ہو تا ہے کہ ان پر سے گریوٹی کی ویو گزر جاتی ہے۔
لائیگو کا رزلٹ حتمی طور پر گریوٹیشنل ویو ہی ہے، اس بات کا ثبوت کیسے حاصل کیا جائے ؟ اس سوال کا جواب پانے کے لیے لائیگو کی ایک جڑواں لیبارٹری لگ بھگ نوے کلو میٹر کے فاصلے پر الگ بنائی گئی۔ اور طے پایا کہ اگر ایک ہی وقت میں ایک ہی طرز کی تبدیلی دونوں لیبارٹریوں نے نوٹ کی تو اس کا ایک ہی مطلب ہو گا کہ یہ کوئی بڑی گریوٹیشنل ویو ہی تھی جس کی وجہ سے ایک ہی وقت میں نوے کلو میٹر کے فاصلے پر دو ایک جیسے پائپ مختصر وقت کے لیے ایک ساتھ چھوٹے یا لمبے ہوئے۔ گیارہ فروری 2016 وہ عظیم دن ہے جب آخری مرتبہ کنفرم کر لیا گیا کہ یہ واقعی نقلی موج ہی ہے جو پائپوں کو لمبا یا چھوٹا کر دیتی ہے۔ جب واقعی دونوں لیبارٹریوں نے ہی ایک وقت میں ان پائپوں کی پیمائش میں ایک جیسی تبدیلی نوٹ کی تو فوری طور پر خبر آئی:
"On 11 February 2016, the LIGO collaboration announced the detection of gravitational waves, from a signal detected at 09.51 UTC on 14 September 2015 of two ~30. solar mass black holes merging together about 1.3 billion light-years from Earth."
یہ گریو یٹیشنل ویو دو بڑے بلیک ہولوں کے آپس میں ایک دوسرے کے اندر مدغم ہونے سے پیدا ہورہی ہے اور یہ موج کائنات کے فیبرک میں سفر کرتی ہوئی کسی پانی کی موج کی طرح زمین پر آرہی ہے۔ جسے ہم نے لائیگو میں ڈیٹیکٹ کر لیاہے
00000
43
گریوٹیشنل ویو کی دریافت انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ کیونکہ تصور کریں جب ہم نے روشنی کی شعاع دریافت کی تو آج تک اس سے کیا کچھ کر لیا؟ ہم جانتے ہیں کہ برقی مقناطیسی لہروں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کنورٹ کیا جاسکتا ہے اور ان کے ذریعے پیغام رسانی کی جاسکتی ہے۔ اگر کل کو گریوٹیشنل ویو کو بھی برقی مقناطیسی لہروں کے ساتھ کنورٹ کیا جانے لگا یا گریوٹیشنل ویوز کے ذریعے معلومات کی ترسیل یا دیگر ایجادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کیا کیا امکانات ہیں؟
جو نہی ان ویوزکی دریافت کا اعلان ہوا بہت سے لوگوں کے دل میں جو پہلا خیال آیا، وہ یہ تھا کہ اب اگر ٹائم ٹریول ممکن نہیں بھی ہے ، تب بھی ماضی اور مستقبل میں دیکھناضرور ممکن ہو جائیگا۔۔۔
ادریس آزاد Idrees Azad
(جاری ہے۔۔۔)
Comments
Post a Comment