’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق (حصہ اول)
’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو یا براق (حصہ اول)
نوٹ:- یہ سلسلہ واقع معراج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے جسکا پہلا حصہ شروع ہوچکا ہے ، اسکی تمام اقساط یہاں سے پوسٹ کی جائے گی:
ناسا کے زیرِ انتظام ایک مشین (شِپ) بنانے کی کوشش کی جارہے ہی جس کا نام ہے، ’’سپیسٹائم ورپ ڈرائیو‘‘۔ یہ شِپ سپیسٹائم میں فولڈ پیدا کردے گی، جس سے سپیسٹائم میں روشنی کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزسفر ممکن ہوسکے گا۔ چونکہ گریوٹیشنل ویو کی اپنی رفتار ہی روشنی کے برابر ہے اس لیے اس شِپ کا سفر آئن سٹائن کے قانون کی وائلیشن بھی نہ کریگا کہ کوئی شئے روشنی کی رفتار پر یا اس سے زیادہ پر سفر نہیں کرسکتی اور یہ شِپ روشنی کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار پر سفر بھی کریگی ۔ ’’سپیس ٹائم ورپ ڈرائیو‘‘ خود سپیسٹائم کی موج پر سوار ہو کر چلےگی اس لیے قانون کی وائیلیشن نہیں ہوسکتی۔اس کو ’’الکُو بیرے ڈرائیو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ الکُوبیرے (Alcubierre) اُس سائنسدان کا نام ہے جس نے اس مشین کو ڈیزائن کیا۔
اگر یہ شِپ کامیابی سے بنا لی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ’’البراق‘‘ کی قدرے کمزور قسم وجود میں آجائے گی۔ اِسی طرح ’’رونالڈ میلیٹ‘‘ (Ronald Mallett) تھیوریٹکل فزکس کے ایک امریکی پروفیسر سالہال سے ایسی ٹائم مشین بنانے میں مصروف ہیں جو روشنی کی رفتار سے زیادہ پر سفر کرے گی۔ ان کا طریقہ نہایت سادہ ہے اور منطقی اعتبار سے قابل ِ عمل بھی۔ رونالڈ میلیٹ سپیس ٹائم فیبرک میں بھنور پید اکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ رونالڈ کے تجربہ کو سمجھنے کے لیے آپ ایک مثال پر غور کریں، آپ کے سامنے چائے کا ایک بھرا ہوا کپ پڑاہے۔ آپ چائے کے کپ میں چمچ گھمانا شروع کردیتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں چائے گھومنا شروع ہوجائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ کپ میں موجود چائے میں ایک ننھا سا بھنور پیدا ہونا شروع ہوجائے گا۔آپ اگر چمچ کو اور تیز گھمائیں تو بھنور گہرا ہوجائے گا اور بَکِٹ ایکسپری منٹ والی بالٹی کی طرح چائے بھی مقعر (Concave) شکل اختیار کرلے گی۔ اب اگر آپ چنے کا ایک دانہ چائے کے کپ میں پھینک دیں تو کیا ہوگا؟ آپ کو چنے کا دانہ تیزی کے ساتھ گھومتا ہوا نظر آئے گا۔ اور آپ دیکھیں گے کہ چنا اُس گہرے بھنور کے چکر کاٹ رہاہوگا جسے وقتی طورپر آپ بلیک ہول سمجھ سکتے ہیں۔ خود سٹیفن ہاکنگ کے بقول فطرت میں بنی بنائی ٹائم مشین صرف بلیک ہولز ہی ہیں۔ چائے میں پیدا ہونے والے اس بھنور کو سپیسٹائم پر کام کرنے والے سائنسدانوں مثلاً سٹیفن ہاکنگ یا رونالڈ وغیرہ جیسے لوگوں کی طرف سے ’’و رم ہول‘‘ (Wormhole)کا نام دیا جاتاہے، یعنی کینچوے کا سوراخ۔ خیر! آپ اپنے چائے کے کپ میں چنے کے ایک دانے کی تیز گردش دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو یقیناً یہی محسوس ہوگا کہ اصل میں دانہ گھوم رہاہے۔ لیکن آپ جانتے کہ دانہ نہیں گھوم رہا بلکہ چائے گھوم رہی ہے۔ یہ چائے سپیسٹائم فیبرک ہے ۔ اگر سپیس ٹائم فیبرک کو اِسی طرح گھما دیا جائے تو اس میں سفر کرتے ہوئے آبجیکٹس کی رفتار بھی سپیس ٹائم فیبرک کی موج کی رفتار کے برابر ہوجائے گی جو مسافر کے لیے روشنی کی رفتار ہوگی لیکن اس کے ناظر کے لیے روشنی کی رفتار سے کئی گنا زیادہ۔ رونالڈ کی ٹائم مشین میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اُسے ’’الکُبیرے‘‘ کی ورپ ڈرائیو کی طرح بے پناہ توانائی کی ضرورت نہیں ہے۔ رونالڈ روشنی کی شعاعوں کو کام میں لارہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ روشنی کی شعاع کو مختلف طریقوں سے منعکس یا منعطف کرکے ہم اس کے مومینٹم میں تبدیلی لاسکتے ہیں جس سےروشنی کی شعاع کی فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے۔ رونالڈ نے بے شمار آئینوں اور شیشوں کی مدد سے بار بار روشنی کی شعاعوں کی فریکوئنسیاں بدلی ہیں۔ اس طرح وہ روشنی کی شعاعوں کے ذریعے ہی ایسی طاقت حاصل کرنا چاہتاہے جو سپیس ٹائم فیبرک میں بھونچال پیدا کردے۔
(جاری ہے۔۔۔)
Comments
Post a Comment