16 اگست 1888
16 اگست 1888
یہ ایک ایسے شخص کا یوم پیدائش ہے جس نے عرب مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرکے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے میں اھم کردار ادا کیا لیکن جب ایک حادثے کے نتیجے میں مرا تو موٹر سائیکل سواروں کے لئے ھیلمٹ پہننے کا سبب بن گیا
جی میری مراد لارنس آف عربیہ ہے جس کا اصل نام لیفٹیننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس تھا۔(16 اگست 1888ء – 19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس (T. E. Lawrence) کے طور پر جانا جاتا تھا ۔
تھامس ایڈورڈ لارنس یا کرنل ٹی ای لارنس عرف کرنل لارنس آف عربیہ 16 اگست1888 میں ویلز برطانیہ میں پیدا ہوا دوران تعلیم ہی وہ تحقیق اور تفتیش کے حوالےسے اپنے اساتزہ اور ارد گردکے اہم افراد کی نگاہ میں آگیا تھا کرنل لارنس آف عربیہ نے دوران تعلیم شام اور عرب علاقوں میں بہت سا وقت گزارا 1909 میں لارنس آف عربیہ پہلی بار شام پہنچا
برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھا جنہیں پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔
اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں "لارنس آف عربیہ" (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ خطاب 1962ء میں لارنس آف عربیہ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے باعث عالمی شہرت اختیار کر گیا۔
1915 ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی، تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے " تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی ، لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔
ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی ۔انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی ریلوے لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہنچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔ ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جار ہا تھا۔اس پل کے قریب لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کر کھدائی شروع کروا دی، آثار قدیمہ کی کھدائی محض بہانہ تھی اصل مقصد برلن بغداد، ریلوے لائن کی جاسوسی تھا۔ یہاں سے وہ ہر روز خبریں لکھ کر لندن روانہ کرتا رہتا ۔اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے اس نے مزید غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کا انتخاب کیا اور خطیر رقم کا لالچ دیکر اس کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی ۔ فائزی نے بڑی حقارت سے اسکی پیشکش ٹھکرا دی اور دھکے مار کر لارنس کو نکال دیا۔ لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔ اس نے سلیمان فائزی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور کافی غوروفکر کے بعد فیصلہ کیا کہ برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اور اپنے ڈھب کا غدار اس کو پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لیے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے اس نے " پونڈ" پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی ۔
شریف حسین ہاشمی (اصل نام سید حسین ابن علی ہاشمی ) مکہ، جدہ اور مدینہ کا گورنر تھا جس کی غداری کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔
حسین بن علی خادمِ حرمین شریفین کی حیثیت سے عرب قبائل میں شہرت رکھتا تھا۔ مزید براں پہلے ہی اس کے دل میں شاہ حجاز بننے کی تمنا سمائی ہوئی تھی۔ اس کی جاہ طلب خواہشات سے انگریزوں نے فائدہ اٹھایا اور پُرکشش ترغیبات دے کر اسے عثمانی ترکی کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کر لیا۔ یہ جولائی 1916ء کی بات ہے۔
لارنس آف عربیہ موجودہ سعودی عرب کے اس وقت کے حکمران شریف حسین سےجس کا تعلق ہاشمی خاندان سے تھا جو اس وقت خلیفتہ المسلمین کی جانب سے جدہ مکہ اور مدینہ کا نائب یا گورنر مقرر تھا اور اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ بن حسین کے پردادا تھے سے معاہدہ کرلینے میں کامیاب ہوگیا کہ اگر شریف حسین نے خلیفتہ المسلمین سے بغاوت کرلی اور اس بغاوت میں کامیابی حاصل کرلی تو کامیاب ہوجانے کے بعد شریف حسین کو جزیرۃ االعرب یا موجودہ سعودی عرب کا بادشاہ بنا دیا جائے گا بڑے بیٹے فیصل کو شام کا بادشاہ مقرر کیا جائے گا چھوٹے بیٹے عبداللہ کو اردن کا بادشاہ بنایا جائے گا جیسا کہ اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ شریف حسین کے پڑ پوتے ہیں جب کہ شریف حسین کے دیگر بیٹوں کو عراق اور یمن کی بادشاہی دی جائے گی۔
16ء کی بات ہے۔
اکتوبر 1916ء میں ٹی ایس لارنس کو حجاز بھجوایا گیا تاکہ وہ حسین بن علی کی فوج کے ساتھ مل کر عثمانی ترکوں کی چوکیوں پہ حملے شروع کر سکے۔ تب تک وہ کیپٹن بن چکا تھا۔ عرب بغاوت میں کرنل لارنس کا اہم کردار یہ ہے کہ اس نے حسین بن علی اور اس کے بیٹے، شہزادہ فیصل کو قائل کر لیا کہ وہ برطانوی جنگی حکمت عملی کے مطابق عمل کریں۔
اس حکمت عملی پہ چلتے ہوئے باغی عرب قبائل چھاپہ مار کارروائیاں کرنے لگے اور ترکوں سے براہ راست مقابلہ نہیں کیا گیا۔ جلد ہی حجاز اور نجد کے کئی قبائل شریف مکہ سے آن ملے۔ انہوں نے حجاز ریلوے کو سخت نقصان پہنچایا جس سے ترک فوج کو سپلائی ملتی تھی۔ سپلائی کٹنے سے عرب شہروں میں مورچہ بند ترک فوج محصور ہوگئی۔
برطانیہ نے شریف مکہ کی عرب فوج کو جدید اسلحہ دیا اور مالی امداد بھی دی۔ آنے والے دو برس میں ٹی ایس لارنس کی راہنمائی میں اس عرب فوج نے حجاز و نجد میں کئی اہم قلعے ترکوں سے ہتھیا لیے۔ ان کامیابیوں کی بدولت وہ عرب فوج کے کمانڈر، شہزادہ فیصل کا دست راست اور لیفٹیننٹ کرنل بن گیا۔
دلچسپ بات یہ کہ جب مشرق وسطیٰ میں کرنل لارنس عربوں کے ساتھ مل کر ترکوں سے نبرد آزما تھا، تو برطانیہ، فرانس اور روس کی حکومتیں جنگ عظیم میں کامیابی یقینی دیکھ کر مشرق وسطیٰ کے حصّے بخرے کرنے کا معاہدہ تیار کرنے لگیں۔ نومبر 1915ء سے معاہدے پر بات چیت شروع ہوئی اور وہ مئی 1916ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔
تاریخ میں یہ معاہدہ ’’سائیکس پیکوٹ معاہدہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔اس معاہدے کی رو سے موجودہ عراق، کویت، اردن اور اسرائیل کے علاقے انگریزوں کے حصے میں آئے۔ لبنان، شام اور شمال مشرقی ترکی فرانسیسیوں کوملے جبکہ استنبول سمیت بقیہ سارا ترکی روسیوں کومل گیا۔
مغربی مورخین کا دعوی ہے کہ کرنل لارنس سائیکس پیکوٹ معاہدے سے بے خبر تھا۔ جب اواخر 1918ء میں مشرق وسطیٰ میں ترک فوج کو شکست ہوئی تو پھراسے معاہدے کا علم ہوا۔ اس کی بابت جان کر قدرتاً حسین بن علی کے علاوہ کرنل لارنس کو بہت صدمہ پہنچا۔
برطانوی حکمران اب ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقتور عرب خلافت کا قیام عمل میں آئے۔یوں عرب طاقت پاکر علاقے میں برطانوی تجارتی و معاشی مفادات کے لیے خطرہ بن جاتے۔ مغربی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں چھوٹی عرب ریاستیں قائم کرنا چاہتی تھیں تاکہ عرب طاقت تقسیم ہوکر کمزور ہوجائے۔
مزید برآں برطانوی حکومت کا ایک بااثر رکن، وزیر خزانہ ڈیوڈ لائڈ جارج جو بعدازاں وزیراعظم بھی بنا، انتہا پسند عیسائی تھا۔ ان عیسائیوں کو آج کل عیسائی صیہونی (Christian Zionists) کہا جاتا ہے۔ یہ عیسائی سمجھتے ہیں کہ یہود ہی فلسطین کے اصل مالک ہیں ۔اور یہ کہ مسجد اقصیٰ کی شہادت کے بعد جب ہیکل سلیمانی تعمیر ہوگا، تب ہی حضرت عیسیٰؑ زمین پہ نزول کریں گے۔
دسمبر 1916ء میں یہی ڈیوڈ لائیڈ جارج برطانوی وزیراعظم بن بیٹھا۔ اس نے پھر صیہونی رہنماؤں سے وعدہ کیا کہ فلسطین میں انہیں ایک علیحدہ وطن (اسرائیل) دیا جائے گا۔ نومبر 1917ء میں ہونے والا ’’اعلان بالفور‘‘ اسی وعدے کی عملی شکل ثابت ہوا۔
پہلی جنگ عظیم میں حسب توقع عثمانی ترکوں کو شکست ہوئی اور ان کی خلافت سمٹ کر ترکی تک محدود ہوگئی۔ اگر مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترک فوج انگریزوں اور یونانیوں کو مار نہ بھگاتی، تو آج کا ترکی شاید کہیں چھوٹا اور کٹا پھٹا ہوتا۔اُدھر یورپیوں سے دھوکا کھا کر حسین بن علی سخت غصّے میں تھا۔ برطانوی حکومت نے اپنے حقیقی منصوبے پہ عمل درآمد کرتے ہوئے اس کے بڑے بیٹے، عبداللہ کو اردن جبکہ دوسرے فرزند فیصل کو عراق کا بادشاہ بنا دیا۔لیکن بظاہر اس اقدام سے یہ دکھایا گیا کہ برطانیہ نے عربوں سے کیے گئے اپنے وعدے کا پاس رکھا۔اسے کہتے ہیں مکارانہ سیاست!
ترکوں کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ وہ 1925ء تک ہی شاہ حجاز رہ سکا کہ ابن سعود نے اس کی حکمرانی کا خاتمہ کردیا۔برطانوی اب ابن سعود کی حمایت کر رہے تھے۔
اُدھر عراق میں 1958ء میں فوج نے شہزادے فیصل کی اولاد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اب صرف اردن میں حسین بن علی کے وارث بادشاہ بنے بیٹھے ہیں۔پچھلے ایک سو برس میں یہ بنیادی تبدیلی بھی آئی کہ اب مشرق وسطی میں جاری گریٹ گیم میں سلطنت ِانگلشیہ کی جگہ ریاست ہائے متحدہ امریکا لے چکا ہے۔
کرنل لارنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس نے کبھی رسمی جنگی تربیت نہیں پائی۔ تاہم اس نے کئی معرکوں میں عرب گوریلوں کی راہنمائی کی ۔موٹر سائیکل تیز چلانے کا شوقین تھا۔ یہی شوق مئی 1935ء میں اس کی جان لینے کا سبب بن گیا۔ وہ 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بائک بھگا رہا تھا کہ دو بچوں کو بچاتے بچاتے گرا اور شدید زخمی ہوکر چھ دن بعد چل بسا۔
اس وقت تک موٹر سائیکل سوار ھیلمٹ نہیں پہنتے تھے ۔لارنس آف عربیہ کا ناکام آپریشن کرنے والے ڈاکٹر نے بعد ریسرچ کی اور اس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے ھیلمٹ لازمی قرار دیا گیا ۔
مزید اچھی اچھی اردو تحاریر کے لئ Netflix Of Education فالو کریں جزاک اللہ۔



Comments
Post a Comment