کارل سیگن ایک عظیم انسان تھے. انہوں نے کاسمک کلینڈر بنا کر انسان پر احسان کیا..
کارل سیگن ایک عظیم انسان تھے. انہوں نے کاسمک کلینڈر بنا کر انسان پر احسان کیا..
اس نے ہمارے سمجھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا. بتایا کہ ہم کتنے چھوٹے ہیں اور جہان کتنا بڑا ہے. کارل سیگن نے ثبوت دئیے کہ بگ بینگ 13 ارب 80 کروڑ سال پہلے ہوا. تب سے اب تک اتنے بڑے عرصے میں کائنات میں جو ہوا اسے انہوں نے ایک سال میں تقسیم کر کے کاسمک کلینڈر بنایا. اس کلینڈر پہ ایک سیکنڈ 450سال کا ہے اور ایک دن 3کروڑ 78لاکھ برس کا ہے.
اس کلینڈر پر بگ بینگ یکم جنوری کی رات بارہ بجے ہوا. اور آج دسمبر کی اکتیس تاریخ کا آخری سیکنڈ چل رہا ہے. واقعات کی ترتیب ایسے ہے کہ ابتدائی ستارے 19 جنوری کو بنے. کہکشائیں 22جنوری کو بنی. ہماری کہکشاں 16مارچ کو بنی. 13مئی کو اس کہکشاں نے ڈسک کی شکل اختیار کی. 2ستمبر کو سورج اور زمین کی پیدائش ہوئی. اگلے دن چاند پیدا ہوا. زمین کی قدیم ترین چٹانیں 6ستمبر کو ٹھنڈی ہوئیں جو آج بھی موجود ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21 ستمبر ۔ پروٹین سے زندگی کی ابتدا
30 ستمبر ۔ پودوں میں فوٹوسنتھیسز
26 اکتوبر ۔ فوٹوسینتھیسز کی بنا پر زمین پر آکسیجن کی مقدار میں اضافہ ہوا اور کاربن ڈائی آکسائڈ تھوڑا رہ گیا.
9 نومبر - یونی سیلولر جاندار پانی میں وجود میں آئے
29 نومبر - جانداروں میں سیکس کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے asexual پیدائش ہوتی تھی.
5 دسمبر ۔ پہلا ملٹی سیلولر جاندار پیدا ہوا.
14 دسمبر ۔ کیڑوں کے آباء
17 دسمبر ۔ مچھلیاں
20 دسمبر ۔ خشکی پر پودے
21 دسمبر ۔ کیڑے اور بیج
22 دسمبر ۔ پانی اور خشکی کے جاندار Amphibians
23 دسمبر ۔ رینگنے والے جاندار
25 دسمبر ۔ ڈائنوسار
26 دسمبر ۔ ممالیہ
27 دسمبر ۔ پرندے
28 دسمبر ۔ پھول
30 دسمبر، صبح کے 6 بج کر 24 منٹ پر شہابیہ گرا اور ڈائنوسارز کو بڑی تعداد میں ختم کر دیا۔ اب ممالیہ کے عروج کی باری آنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کائنات کا آخری دن یعنی آج کا دن اکتیس دسمبر آن پہنچا۔ صبح چھ بج کر پانچ منٹ پر بندر اور ایپ الگ ہوئے، دوپہر کو اڑھائی بجے کے قریب انسان نما نینڈرتھل آئے۔ آٹھ منٹ پہلے رات کے 11 بج کر 52 منٹ پر جدید انسان نے قدم رکھا۔ دو منٹ پہلے 11:58 پہ انسان نے غاروں میں مصوری شروع کی۔ آخری منٹ کے 32ویں سیکنڈ میں زراعت شروع ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری منٹ کے 47 ویں سیکنڈ میں انسان نے کانسی بنانا سیکھا۔ 49 ویں سینکڈ کی اہم ایجاد پہیہ تھا۔ یہ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا سینکڈ بھی تھا۔ 54ویں سینکڈ میں کنفیوشس، مہاتما بدھ، چن خاندان، قدیم یونان اور رومی سلطنت کا عروج تھا اور یہی ارشمیدس کی فزکس اور اقلیدس کی جیومٹری کا سینکڈ تھا۔ 55ویں سینکڈ میں مسیحیت شروع ہوئی، 56ویں سینکڈ میں اسلام۔ 11:58:58 کو صلیبی جنگیں ہوئیں، برِصغیر میں مغل دور آیا، کولمبس نے امریکہ دریافت کیا، یورپ میں نشاةِ ثانیہ ہوا۔
اب ہم آخری سیکنڈ میں ہیں۔ جب یہ سیکنڈ شروع ہوا تو اکبر برِصغیر میں بادشاہ تھے۔ عثمانیہ سلطان نے خلیفہ کا لقب اختیار کر لیا تھا۔ کاپرنیکس کے پیش کردہ خیال، کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، کی مخالفت کی جا رہی تھی۔ یورپ جنگوں کی زد میں تھا۔ پروٹنسٹنٹ بغاوت اور مذہبی جنگیں جاری تھیں۔
اس آخری سینکڈ میں دنیا میں طاقت کا توازن بدلا اور یورپ کی طرف چلا گیا۔ ممالک کا تصور بنایا گیا، کالونیل دور آیا اور پھر ختم ہوا، بجلی دریافت ہوئی، انجن بنا، صنعتی انقلاب آیا، بڑی جنگیں ہوئیں، سرحدیں بنائی گئیں، ممہلک ترین ہتھیار آئے، بیماریوں کے علاج ڈھونڈے گئے، ہم خلا میں پہنچے، چاند پر قدم رکھ دیا۔ کمپیوٹر بنائے اور پھر انٹرنیٹ آگیا اور اینڈرائیڈ کا دور دورہ ہے.
اس جہان میں اپنی حیثیت یہی چھ آٹھ سیکنڈ ہے. اپنی اوقات جاننا بہت تکلیف دیتا ہے. دو راستے نظر آتے ہیں. یا تو سچ تسلیم کیا جائے یا خیالی طور پر خود کو جہان کا مرکز اور تخلیق کائنات کی وجہ سوچا جائے. خود کو دھوکہ دینے میں کچھ غلط نہیں ہے پرسکون رہنے کے لئے یہ اچھا طریقہ ہے. بس یہ جاننا چاہئے کہ نظریات، عقائد، مذاہب، زبانیں، علاقائیت اور نسلیں سبھی اس کائنات کے آگے فقط پچاس سیکنڈ کی کہانی ہے.. یہی سلسلہ رہے گا تو انسان یہاں بس چار چھ منٹ مزید رہ لے گا پھر کچھ اور اس کی جگہ موجود ہو گا. جہان کو سمجھنا بہت خوبصورت ہے. اور اسے ہمارے انکار سے فرق بھی نہیں پڑتا.
ثاقب الرحمن
Comments
Post a Comment