رنگ اور ہماری بے بسی.....!
رنگ اور ہماری بے بسی.....!
Reality of the reality....
ہم اپنی زندگی میں جو بھی طرح طرح کے رنگ دیکھتے ہیں وہ رنگ حقیقت میں وجود نہیں رکھتے بلکہ وہ ہمارے دماغ کا پیدا کردہ ایک احساس ہیں....ہر رنگ در حقیقت ایک خاص frequency کو represent کرتا ہے، ہماری آنکھ میں موجود retina ہر frequency کو ایک color assign کرتا ہے جو آپٹک نرو کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور ہم چیزوں کو مختلف رنگوں کے طور پر دیکھتے ہیں....ایک مثال کے ذریعے کے مزید آسان کر کے سمجھاتا ہوں، ہم کوئی ایسی device بنا سکتے ہیں کہ جس کا اندرونی Structure اور programming ہم اس طرح سے کر دیں کہ اگر اس کے سامنے red color رکھا جائے تو وہ blue رنگ display کرے یعنی input میں چاہے کچھ بھی دیا جائے output ہم اپنی مرضی کی لے سکتے ہیں... اگر اسی چیز کو ایک قدم آگے بڑھ کر دماغ پر apply کریں تو جو چیز بھی ہم سوچتے سمجھتے ہیں یا کسی چیز کے بارے میں کوئی رائے رکھتے ہیں وہ بھی در حقیقت اس چیز کے بارے میں ہمارے دماغ کا احساس(perception) ہے کہ یہ چیز ایسی ہے، اوپر device والی مثال یہاں بھی لاگو ہوتی ہے ہمارے سامنے اگر ایک گاڑی کھڑی ہے یا پوری کائنات جیسی ہمیں نظر آتی ہے وہ دراصل ہمارے دماغ کی ان سب کے حوالے سے perception ہے جو کہ ہمارے دماغ کے internal structure اور programming پر depend کرتی ہے....جو چیزیں ہمیں جاندار نظر آتی ہیں اور جو بے جان نظر آتی ہیں وہ بھی ہمارے دماغ کی ان سب کے حوالے سے perception ہے کہ یہ جاندار ہے اور یہ بے جان، صحیح غلط بھی ہماری perception ہے....
یعنی ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ
What is the reality of the reality?
انسان اس قدر بے بس ہے کہ جن چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ان کی حقیقت کو بھی کبھی نہیں پہنچ سکتا تو ایسے میں ان چیزوں کی نفی کرنا جن کو انسان دیکھ نہیں سکتا کیسا مضحکہ خیز خیال ہے....ہنسی آتی ہے مجھے ان لوگوں پر جو عقلیت کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ شک کی اس روش کی زد میں سب سے پہلے ان کا اپنا دماغ آتا ہے جو ان کے ہر خیال اور عمل کا محور و منبع ہے....بے ہنگم random process سے وجود میں آنے والے دماغ کی سوچ پر آپ کو اتنا زیادہ بھروسہ کیوں ہے؟....اگر ایک چیز کو دیکھنے کی صلاحیت ہمارے اندر موجود نہیں وہ اگر ہمارے سامنے بھی رکھ دی جائے ہم نہیں دیکھ سکتے، بہت سے جاندار کچھ خاص رنگوں کو نہیں دیکھ سکتے وہ اگر ان کے سامنے بھی ہوں تو ان کو نظر نہیں آتے....پتھروں کو ہم بے جان سمجھتے ہیں یہ بھی ہمارے دماغ کی پتھروں کے حوالے سے ایک perception ہے یہ سارا کا سارا کھیل دماغ کا ترتیب دیا ہوا ہے....
جب ہم شک کی روش اختیار کرتے ہیں تو پھر ہر چیز ہی مشکوک ہو جاتی ہے خود ہمارا وجود بھی....
"تخلیق کا وجود زمان و مکان space and time کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان و مکان سے تعلق رکهتا ہے، پهر جو انسان اتنا محدود هو کہ وه زمان و مکان کے اندر کی چیزوں کا بهی احاطہ نہ کر سکے، وه زمان و مکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے _____ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان، خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کر سکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر -مولانا وحیدالدین خاں"
" بات دراصل یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ یہ اپنے علم سے نہیں کرسکے ، اسے انہوں نے جھوٹ قرار دے دیا ، اور ابھی اس کا انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا"۔ سورة يونس-39
SaLaHuddin_Ayyubi

Comments
Post a Comment