سفید ہاتھی بمقابلہ ریس کا گھوڑا!!
سفید ہاتھی بمقابلہ ریس کا گھوڑا!!
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
تحریر کا متن کچھ یوں ہونا چاہئے۔ سفید ہاتھی بمقابلہ ریس کا گھوڑا۔ خیر فیس بک پر دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کو خلا میں مقابلے کی بجائے "بیت الخلا" میں مقابلے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ جبکہ حالت یہ ہے کہ اس معاملے میں دونوں ملک سبقت لیے بیٹھے ہیں۔ البتہ بھارت کا خلائی پروگرام اس سب کے باوجود ہم سے کافی آگے ہے۔ اس لیے آئندہ بحث بیت الخلا کی بجائے خلا کی کیجائے تو شاید ہم میں بھی کچھ غیرت آئے۔
کہانی شروع ہوتی یے 1961 سے۔ جب پاکستان کی سپیس ایجنسی سپارکو کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اسکے بانی فزکس کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام تھے ۔ سپارکو کا ہیڈکوارٹر کراچی میں تھا۔
اسکے مقابلے میں بھارت کی سپیس ایجنسی "آئی ایس آر آو"(ISRO) 1969 میں تشکیل پائی جسکا ہیڈکوارٹر بینگلور تھا۔
سپارکو نے اپنی بنیاد کے ایک سال بعد ہی یعنی 1962 میں ناسا کی مدد سےرہبر۔1 نامی راکٹ لانچ کا خلا میں کامیاب تجربہ کیا جس سے سپارکو جنوبی ایشیا کی سالڈ فیول راکٹ لانچ کرنے والی پہلی اور دنیا کی دسویں سپیس ایجنسی بن گئی۔ اسی کی دہائی میں سپارکو نے چائنہ کی مدد سے پاکستان کے دفاعی میزائل نظام حتف اور شاہین کا آغاز کیا۔اور سویلین مقاصد کے لئے تحقیق کم و بیش نام کی رہ گئی۔
سپارکو کے چند قابلِ ذکر سٹلائٹ جو چائنہ کی مدد سے خلا میں بھیجے گئے جن میں بدر 1, بدر بی، پاک سیٹ 1 اور ہھر 2018 میں PRSS-1 اور PakTES-1۔ یہ تمام۔سیٹلائٹس موسمیاتی یا کمیونکیشن سٹلائیثس تھے۔ سپارکو کا موجودہ بجٹ 45 ملین امریکی ڈالر ہے۔ یہ صاف لگتا ہے کہ پاکستان کا سپیس پروگرام 80 کی دہائی کے بعد سے زوال کا شکار ہے اور ہمارے ہاں سپیس پروگرام کو زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ہماری ترجیحات مہذب دنیا کے لئے مذاق ہیں۔
اب نظر دوڑاتے ہیں بھارت کے ISRO پر۔ اسکا موجودہ بجٹ 1.8 بلین ڈالر ہے۔ یعنی سپارکو سے قریب یعنی 40 گنا زیادہ۔
بھارت نے اپنا پہلا سیٹلائٹ 1975 میں سویت یونین کی مدد سے خلا میں بھیجا۔ اسکے بعد پہلا کمیونیکیشن سٹلائٹ 1982 میں۔ اب تک ISRO ، ایک سو سے زائد خلائی مشنز پر کام کر چکا ہے۔ 79 کے قریب راکٹ لانچ اور چاند اور مریخ تک اپنے سپیس کرافٹ اور لینڈر بھیج چکا یے۔ ISRO کا سپیس لانچ کا نظام باقی ممالک کے راکٹ لانچ نظام سے کہیں سستا ہے۔
چند اہم مشنز میں Chandryan جو چاند پر بھیجا جانے والا پہلا بھارتی مشن تھا اور Mars Orbitar Mission شامل ہیں جو 2014 سے مریخ کے مدار میں گھوم رہا ہے۔
مستقبل قریب میں ISRO اس تگ و دو میں ہے کہ چاند اور مریخ پر اپنے Rovers اور Landers بھیجے اسکے علاوہ مختلف انسانی مشنز پر بھی کام جاری ہے۔
افسوس کہ ہم اپنی غلط پالیسیوں کیوجہ سے سپیس پروگرام میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ حالانکہ دوڑ ہم نے پہلے لگائی تھی۔
ڈاکٹر_حفیظ_الحسن

Comments
Post a Comment