Saddam Hussein
صدر صدام حسین نے گرفتاری کے بعد عدالت کو یہ درخواست کی کہ اسے قید کے دوران نہ تو کپڑے دهونے اور نہ ہی سگریٹ پینے کی اجازت ہے۔ اسے پچھلے دو سال سے جوتوں کا صرف ایک جوڑا دیا گیا ہے جو کب کا پھٹ چکا ہے۔ خیر عدالت نے یہ سارے مطالبات منظور کر لیے اور یوں جوتوں کے نئے جوڑے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کے اندر کپڑے دهونے اور سگریٹ پینے کی اجازت بھی دے دی گئی۔
صدام حسین عراق کا وہ حکمران تھا جو درجنوں محلات، ہزاروں قیمتی سوٹوں سینکڑوں جوتوں،هزاروں خوشبو کی بوتلوں اور لاتعداد قیمتی گاڑیوں کا مالک تھا
جس نے اپنی مونچھیں رنگنے کے لیئے کئی ماهرین کی ٹیم رکھی ہوئی تھی جس کے سگار هوانا سے آتے تھے جس کے لیے مشروبات فرانس کی کمپنیاں بناتی تھی جس کے کپڑوں کا ناپ لینے کے لیے ٹیلر لندن سے آتا تھا۔ جس کے صرف کپڑے دهونے کے لیے بغداد میں رائل واشنگ سینٹر بنایا گیا تھا جس کے دهوبی کو اعزازی کرنل کا رینک دیا گیا تھا۔ جس کے کسی بھی سوٹ کی باری تین سال کے بعد آتی تھی۔
میرا دل چاهتا ہے کہ صدام حسین مرحوم کی یہ تصویر جسمیں وہ خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھو رہا ھے۔ دنیا کے تمام حکمرانوں کے بیڈ روم میں لگوا دوں اور ان سے عرض کروں کہ انسان آخر انسان ہے وہ خدا کبھی نہیں بن سکتا اور دنیا کے ہر صاحب اقتدار کا اقتدار ایک دن ختم هو جانا ہے اور دنیا کے ہر حکمران کو ایک نہ ایک دن اپنے اقتدار کے محل سے باهر ضرور آنا ہے کبھی اپنے قدموں پر تو کبھی دوسروں کے کندهوں پر۔

Comments
Post a Comment