The only unclaimed land on earth
The only unclaimed land on earth
"Bir tawil"
آپ نے کبھی سوچا تو ہوگا کہ اگر میری بادشاہت ہوتی تو میں یہ فیصلہ ایسے کرتا اور یہ کام ایسے کرتا لیکن پھر آپ بس سوچ کر ہی رہ گئے کیونکہ یہ بظاہر تو ممکن نظر نہیں آتا۔
لیکن اگر کوئی آپ کو کہے کہ ایسا ممکن ہے تو یقینا آپ کو حیرت ہوگی۔
کیونکہ آپ کے خیال میں دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں جہاں آپ اپنی مملکت بنا سکیں۔
وجہ اسکی یہ کہ زمیں کے چپے چپے پر کوئی نا کوئی ملک حق ملکیت جتاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو ایک ہی حصے پر کئی ملک اپنا حق جتلاتے ہیں۔
اس ماحول میں اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایک 2060 مربع کلومیٹر کا علاقہ ایسا بھی ہے جسے کوئی ملک اون نہیں کرتا۔
اور یہ علاقہ دنیا کہ تقریبا تیس ممالک سے بڑا ہے۔
تو آپ کو یقینا حیرت ہوگی۔
یہ علاقہ ہے bir tawil (بیر طاول) جو مصر اور سوڈان کی سرحد پر واقع ہے۔
اس علاقے کو یہ دونوں ہی ملک نہیں اپناتے۔
اس کی ایک تاریخی وجہ ہے۔
سن 1899 میں برطانیہ نے سوڈان اور مصر کے درمیان میں بعجلت ایک بالکل سیدھا بارڈر کھینچا جسے سیاسی بارڈر کہا گیا جس کے تحت bir tawil سویڈن کا حصہ بنا۔
لیکن اصل مسلہ اس کے بعد شروع ہوا۔
سن 1902 میں برطانیہ نے ایک اسٹیبلشڈ بارڈر ان ممالک کے مابین کھینچا لیکن یہ بالکل سیدھا نہیں تھا۔
اس نئے بارڈر کے حساب سے bir tawil مصر کا حصہ تھا۔
لیکن
اس نئے بارڈر کے حساب سے ایک زرخیز اور سمندری علاقہ حلایب hala'ib جوکہ 1899 کے بارڈر کے حساب سے مصر کا حصہ تھا اور تقریبا 20580 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا سواڈن کا حصہ بنا۔
مصر نے اس بارڈر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور 1899 والے بارڈر پر برقرار رہا اور سوڈان نے 1902 والے بارڈر پر آمادگی دکھائی۔
اب چونکہ مصر 1899 کے معاہدے کو مانتا ہے لہذا اس حساب سے وہ حلایب hala'ib کو اپنی ملکیت اور bir tawil کو سوڈان کی ملکیت مانتا ہے۔
اور سوڈان چونکہ 1902 کے بارڈر پر بضد ہے سو وہ bir tawil کو مصر اور حلایب hala'ib کو اپنا حصہ مانتا ہے۔
اس وجہ سے hala'ib تو متنازعہ علاقہ ہوگیا۔
اور bir tawil ایک ایسا علاقہ ہوگیا جسے کوئی بھی اپنانے کو تیار نہیں کیونکہ جو اسے اپنائے گا اسے حلایب hala'ib سے دستبردار ہونا پڑیگا۔
اب یہ خشکی پر موجود واحد جگہ ہے جو کوئی کلیم نہیں کرتا اگر اس جگہ پر کوئی جاکر اپنی مملکت بنانا چاہے تو وہ مصر یا سویڈن کا ویزہ لیکر یہاں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اپنی مملکت بنا سکتا ہے۔بس اپنے آپ کو پڑوسی ممالک سے تسلیم کروانا ہوگا۔


Comments
Post a Comment