The .... Unsinkable کبھی نا ڈوبنے والا..........

 The .... Unsinkable

کبھی نا ڈوبنے والا..........
دنیا کا سب سے بڑا اور luxurious بحری جہاز اپنے پہلے سفر پر نکلتا ہے۔اس جہاز کو Southampton انگلینڈ سے نیو یارک تک جانا تھا۔اس جہاز میں بڑے بڑے ایکٹرز انڈسٹریلسٹ اور امیگرینٹس سوار تھے جو امریکہ جا رہے تھے ایک بہتر زندگی کی تلاش میں۔اس جہاز کی کمانڈ سنبھال رکھی ہے 62 سال کے سینیئر کیپٹن Adward john Smith نے۔اور ان کا تجربہ ہی ان کی مہارت کی سند تھا۔اس وقت سب کو اس جہاز کو لے کر بہت تجسس تھا۔ ہونا فطری بھی تھا کیونکہ ہم بات کر رہے ہیں Titanic کی جو کہ اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑیShip تھی جس کی لمبائی 269 میٹر, اونچائی 53 میٹرز اور وزن 40ہزار ٹن سے زیادہ تھا.جہاز کاجوLuxurious سٹائل تھا اور تفریح مہیا کی گئی تھی وہ دل دہلا دینے کے لیے کافی تھی ۔اس زمانے میں اس جہاز کو بنانے میں جو لاگت آئی وہ 7.5ملین ڈالرز تھی جو کہ آج کے حساب سے 400 ملین ڈالرز بنتے ہیں۔جہاز کے اندر جو سہولیات میسر تھیں وہ کسی 5 سٹار ہوٹل سے کم نہیں تھیں۔سٹین گلاس کھڑکیاں، نیٹ وڈ پینلنگ،سٹیئرز کیسز،ہیٹڈ سوئمنگ پول ،ترکی باتھ،برقی باتھ،جم خانہ،سکواش کوڈ،4ریسٹورنٹ،2باربر شاپس،مین لائیبریری اور نا جانے کیا کیا۔
اور ان سب سے بڑھ کر جس طرح کے حفاظتی انتظامات کو مد نظر رکھ کر اس جہاز کو بنایا گیا تھا اس کو Unsinkable یعنی کبھی نا ڈوبنے والا جہاز بھی کہا جاتا تھا۔جس کمپنی نے ٹائی ٹینک کو بنایا اس کا نام White Star Line تھا.اس کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ Philip A.S Franklin ٹائی ٹینک کو لے کر اتنے Confident تھے کے انہوں نے openly اسے Unsinkable کہنا شروع کر دیا تھا۔
لیکن 12اپریل 1912 کو جب یہ شپ اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوئی تو محض دو دن بعد اسے Ice Warnings ملنا شروع ہو گئیں۔ بحر اوقیانوس میں اس راستے پر جہاں یہ جہاز محو سفر تھابرف کے پہاڑ جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں جن کے پاس سے گزرنے والے اکثر جہاز دوسروں کو warn کرتے رہتے ہیں ۔۔ اور اس چیز کو لے کر Titanic نے دو بار اپنے کورس کو چینج بھی کیا۔لیکن پھر بھی اپنی سپیڈ کو کم نہیں کیا اور اسے مستقل 21.5KNOTS یعنی 40kmph پر ہی رکھا۔14 April کو7 اور Ice Warnings دی جاتی ہیں۔لیکن انھیں serious نہیں لیا جاتا۔دن ڈھلا اور رات ہوگئی۔ 14 اپریل 1912 کی اس رات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس رات کوئی چاند نا نکلا تھا جس سے حد نگاہ بہت محدود ہوگئی۔جہاز کا look out piont جو سامنے کی طرف ذرا اونچائی پر رکھا ہوتا ہے۔تاکہ وہاں پر بیٹھ کر جہاز کے سامنے والے راستے پر نظر رکھی جاسکے۔اس وقت وہاں پر بیٹھے Frederick Fleet کو دھند اور سردی کی وجہ سے کچھ زیادہ دکھائی نہیں دے رہاتھا اور ستم تو یہ اس کے پاس اس وقت کوئی دوربین بھی نا تھی۔11:39PMکو وہ کیا دیکھتا ہے کہ اس کے جہاز کے عین سامنے ایک بہت بڑا آئس برگ آگیا ہے اور خطرے کو محسوس کرتے ہوئے وہ مسلسل 3 بار گھنٹی بجاتا ہے۔ لیکن تب تک وقت بیت جاتا ہے۔اور جہاز دائیں جانب سے اپنی پوری رفتار سے اس قوی الجثہ آئس برگ سے ٹکرا جاتا ہے۔ جہاز اور برف کا تصادم پورے 10سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ جس سے جہاز کی فرنٹ رائٹ سائڈ پر ایک بہت بڑا ڈینٹ پڑ گیا اور چھوٹے چھوٹے سوراخ بن گئے جس سے پانی جہاز میں داخل ہونے لگا۔
یہ آئس برگ بھی کوئی چھوٹا موٹا برف کا ٹکڑا نہیں تھا Length میں یہ 400×200فٹ اور سائز میں ایک فٹ بال میدان جتنا وسیع تھا۔اور یہ سطح سمندر سے تقریباً 100 فٹ بلند تھا۔ سائنسدان اس کے وزن کا اندازہ تقریباً1.5ملین ٹن تک لگاتے ہیں۔
تصادم کے کچھ سیکنڈز بعد جہاز کے Captain اور آرکیٹیکٹ Thomas Andrews نے جب ٹکر کے اثرات کو جانچا تو ان پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا یہ جہاز اب نہیں بچے گا۔یہ بات دھماکے سے کم نہیں تھی۔جی ہاں اپنے دور کا سب بہترین جہاز جسے Unsinkable مان لیا گیا تھا اپنے پہلے سفر کے محض چوتھے روز ڈوبنے کے لیے تیار تھا۔
ٹائی ٹینک کے نا ڈوبنے والے بیان کے پیچھے اس کے زبردست Safety Features کا بڑا ہاتھ تھا۔دو مین سیفٹی فیچرز کی وجہ سے اسے ایسا مانا جاتا تھا۔پہلا Double bottom hull تھا جس کا مطلب ہے اگر جہاز کے نیچے ایک کی جگہ دو لیئرز کا استعمال کیا گیا تھا یعنی اگر کسی وجہ سے ایک لیئر ٹوٹ بھی گئی تو دوسری لیئر جہاز کو ڈوبنے سے بچائے رکھے گی۔اور دوسرا جہاز کے جو نیچے والا حصہ تھا وہ 16 الگ الگ Air Tight Chambers پر مشتمل تھا۔اگر کسی وجہ سے ایک چیمبر میں پانی بھر بھی جاتا تو دوسرے چیمبر محفوظ رہتے اور جہاز ڈوبنے سے بچ جائے۔
لیکن اس سب کے باوجود جب جہاز Ice Barg سے ٹکرایا تو ایک کافی لمبا Crack پڑ گیا جس کی وجہ سے Double bottom hull کسی کام کا نا رہا۔اس کے علاوہ اگر کسی وجہ سے 16 میں سے4 چیمبرز میں پانی بھر جاتا تب بھی جہاز اپنا سفر جاری رکھ سکتا تھا۔لیکن کریک کے نتیجے میں16میں سے 6 چیمبر پانی سے بھر چکے تھے اور Capacity صرف 4 چیمبرز کی تھی۔اس لیے سارا حفاظتی نظام دھرے کا دھرا رہ گیا۔اب دنیا کی کوئی بھی طاقت ٹائی ٹینک کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکتی تھی۔
رات 12 بجے کی وہ خوفناک گھڑیاں جو اس وقت چل رہی تھیں Captain Smith اپنے جہاز کے عملے کو ریڈیو پر ایک Distress سگنل بھیجنے اور فلیئر جلانے کا حکم دیتے ہیں تاکہ اگر کوئی اور جہاز قریب ہے تو ان کی مدد کو پہنچ سکے۔سینیئر Radio آپریٹر Jack Philips لگاتار اور مسلسل ایک کے بعد ایک Distress Signal بھیجتے رہتے ہیں۔بلاشبہ ان کی یہ کوشش قابل ستائش تھی وہ اپنے کام پر ڈٹے رہے اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔لیکن کسی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔لیکن کچھ دیر بعد ایک جہاز R.M.S Carpathia ٹائی ٹینک کے سگنل کو پکڑ لیتا ہے اور Radio Operator سے بات کرکے وہ اس ڈوبتے جہاز کی مدد کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔لیکن مسئلہ یہ تھا وہ قریب ترین جہاز بھی ٹائی ٹینک سے170 کلومیٹرز دور تھا۔اگر وہ اپنی ٹاپ سپیڈ پر بھی آتے تو انھیں پہنچنے میں ساڑھے 3 گھنٹے کا وقت درکار تھا۔لیکن کیا Titanic والوں کے پاس اتنا وقت تھا،، تو جواب ہے بالکل بھی نہیں۔
اس دوران کیپٹن لوگوں کو بچانے کی خاطر لائف بوٹس کو پیسنجرز کے ساتھ سمندر میں اتارنے کا حکم دیتے ہیں۔لیکن حد تو یہاں ہوگئی 65 لوگوں کی گنجائش رکھنے والی حفاظتی کشتی میں صرف 28 لوگوں کو ہی سوار کیا گیا۔ تو دوستوں اس کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ تھی۔لوگ سمجھتے تھے ٹائی ٹینک ایک نا ڈوبنے والا جہاز ہے۔ آخر وہ کہتے بھی کیوں نا کمپنی نے تشہیر اور ایڈز کے دوران ٹائی ٹینک کے Unsinkable ہونے کے بارے میں نا جانے کتنے دعوے کیے تھے۔اس لیے ان کا کہنا تھا ہاں جہاز ٹکرا گیا ہوگا کسی آئس برگ سے۔تو پھر کیا ہے۔ یہ جہاز ڈوبے گا نہیں، آخر کو یہ Titanicہے۔یہ تو کبھی نا ڈوبنے والا ہے۔
لیکن تھوڑی دیر بعد جب جہاز کے آگے والے Apartments پانی سے بھر گئے اور جہاز نے جھکنا شروع کیا تب ان پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ Titanic بھی ڈوب سکتا ہے۔بلکہ ڈوب رہا ہے۔اس نتیجے میں ہر طرف کہرام برپا ہوگیا اور ہڑبونگ مچ گئی۔
رات 1:00بجے تک جہاز کے آگے والے حصے میں پانی بھر چکا تھا۔جس کی وجہ سے اگے والا حصہ پانی میں ڈوب گیا اور پیچھے والا حصہ پانی سے اوپر اٹھ گیا۔ propellers یعنی جہاز کو پیچھے سے آگے دھکیلنے والے پنکھے پانی سے باہر آ گئے تھے۔اب جہاز واضح جھکائو کا شکار تھا۔Tilt بڑھنے سے لوگوں کو یقین ہوگیا وہ نہیں بچیں گے۔ایک ہڑبڑاہٹ کا ماحول بن گیا بوٹس میں بیٹھنے کے لیے دھکم پیل شروع ہوگئی اور تمام حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے۔اور پھر سب سے بڑا مسئلہ لائف بوٹس کی شدید کمی تھی۔پورے جہاز پر صرف20 بوٹس تھیں جن پر صرف 1،200 افراد سوار ہو سکتے تھے لیکن تعداد اس سے بہت زیادہ 2،200 نفوس پر مشتمل تھی۔رات کو 2:00 بجے جب آخری بوٹ بھی سمندر میں اتر چکی اس وقت بھی جہاز پر 1،500 پیسنجرز موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق رات 2 بج کر 20 منٹ پر The Unsinkable Titanic جس کی عظمت و سطوت کی ایک دنیا قائل تھی اور اس کے بارے میں نا جانے کیا کیا دعوے کیے گئے تھے۔صرف3 گھنٹے سے بھی پہلے یہ کبھی نا ڈوبنے والا The Titanic دو ٹکڑوں میں ٹوٹ کر سمندر کے ٹھنڈے پانی میں ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا۔
جہاز پر باقی بچے 1،500لوگ یا تو جہاز کے ساتھ ڈوب گئے یا شدید Hypothermia کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔کیونکہ پانی کا درجہ حرارت2- ڈگری سیلسیس تھا۔اور یہ ٹمپریچر کسی بھی انسان کو آدھے گھنٹے میں جما کر مارنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہےTitanic کےCaptain Adward john Smith آخری وقت تک اپنےWheel پر کھڑے رہے جہاز کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھی اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ ہی ڈوب گئے۔R.M.S Carpathia جب لوگوں کو بچانے کے لیے لوکیشن پر پہنچا تو پورا ایک گھنٹہ لیٹ تھا۔لائف بوٹس پر موجود لوگوں کو تو اس نے کامیابی سے ریسکیو کیا لیکن باقی لوگوں کو مرنے سے نہیں بچا سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ٹھہریے حیرت کے مقام ابھی اور بھی ہیں۔کیسا محسوس کریں گے آپ اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ Titanic کو تاریخ میں کبھی اتنی اہمیت حاصل نا ہوتی اور نا وہ اس قدر بھیانک تباہی کا شکار ہوتا۔اگر وہ ایک Ship اس کی مدد کو پہنچ جاتی جو اس سے صرف 37 کلومیٹر کی دوری پر تھی۔جی اور یہ بات اتنی ہی سچ ہے جتنی Titanic کی غرقابی۔اس جہاز کا نام S.S California تھا۔سب سے اہم Titanic کے آئس برگ سے ٹکرانے سے 1گھنٹے پہلے جو آخری Warning موصول ہوئی وہ اسی جہاز کی طرف سے تھی۔
انھوں نے کہا تھا محتاط رہنا سمندر کے اس حصے میں برف کے بڑے بڑے پہاڑ موجود ہیں۔ اس لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہوا تھا اس دن جو S.S California اتنے مشکل حالات میں بھی Titanic کی مدد کو نا آیا۔تو ہوا یہ S.S California کے ریڈیو Operater نے رات 11:15 پر اپنا ریڈیو بند کردیا تھا۔یعنی Titanic کے ڈوبنے سے تقریباً 40 منٹ قبل۔کیونکہ انھوں نے اپنا جہاز روک دیا تھا وہ اس خطرناک سمندر کو رات کی تاریکی میں عبور نہیں کرنا چاہتے تھے۔
انھوں نے جہاز کو روک رکھا تھا ریڈیو بند تھا جس کی وجہ سے انھیں کوئی Distress سگنل موصول نہیں ہوا اور اپنے سے تھوڑی دور ہونے والے اس قدر بڑے سانحے سے قطعی بے خبر رہے۔لیکن حقیقت میں یہ جہاز اتنا قریب تھا کہ Titanic کے عرشے پر لوگ اسے دیکھ سکتے تھے۔جب لوگوں کو لائف بوٹس میں بٹھایا جارہا تھا تو کسی آفیسر نے کہا بھی تھا پریشان نہ ہو وہ دیکھو وہ جہاز آرہا ہے وہ جلد ہی ہمیں بچا لے گا۔لیکن حیرت ہے یہ جہاز اس وقت بھی نا پہنچا جب فلیئرز جلائے گئے آور راکٹ پھینکے گئے۔بعد کی تحقیق میں پتا چلا S.S California کے عملے نے وہ فلیئرز اور راکٹ دیکھے بھی تھے انھوں اس بارےمیں اپنے کپتان Stanlely Lord کو مطلع بھی کیا تھا لیکن اس نے کہا یہ کوئی خطرے کا سگنل نہیں بلکہ Titanic پر امیر لوگ ہیں یقیناً وہ Party کر رہے ہوں گے۔
اگر اس دنCaptain Lord ان سگنلز کو سیریس لے لیتا تو کافی لوگوں کی جان ںچائی جا سکتی تھی۔صبح جب یہ اپنا ریڈیو آن کرتے ہیں تو انھیں S.O.S کالز ملتی ہیں۔یہ وہاں پہنچتے ہیں لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔وہاں انھیں صرف پانی پر تیرتی ہوئی لاشیں ملتی ہیں۔
ٹائی ٹینک کی تباہی کے پیچھے کافی ساری غلطیاں کارفرما تھیں۔میں اپنے حساب سے الگ الگ ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔تو آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا غلطی تھی جو اتنے بڑے جہاز کو لے ڈوبی ۔۔
1۔۔
بعد کی انکوائریوں میں جو Investigation کی گئیں وہ S.S California کے Captain Stanely Lord پر بھی اس تباہی کا سامان ڈالتی ہیں۔لیکن اتنے بڑی تباہی کے پیچھے اس ایک آدمی کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور لوگوں کی بھی غلطیاں تھیں۔
2۔۔
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے جہاز پر ضرورت کی مطابق لائف بوٹس موجود نا تھیں۔کیونکہ کمپنی نے بناتے وقت سوچا یہ جہاز تو Unsinkable ہے یہ تو کبھی ڈوبے کا نہیں اس لیے ہمیں اضافی بوٹس بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔اور یہی غلطی سینکڑوں لوگوں کی موت کا سبب بن گئی ۔
3۔۔
ٹائی ٹینک جہاز کے کیپٹن جو A.J Smith تھے انھوں نے Safety drills تک کرواناگوارا نہیں کی تھیں۔وجہ وہی تھی The Unsinkable۔اس کے علاؤہ جس دن جہاز آئس برگ سے ٹکرایا اس دن ایک Safety drill بھی رکھی گئی تھی لیکن انھوں نے اسے بھی کینسل کردیا اور کہا اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ٹائی ٹینک تو Unsinkable ہے(مقام حیف ہے)
4۔۔
ان غلطیوں میں جو سب سے بڑی تھی وہ تھی Steersman Robert Hichens کی جو کہ اس وقت اسٹیئرنگ وہیل پر موجود تھے۔اس رات جب اوپر سے سگنل ملا کہ ہمارے سامنے ایک آئس برگ ہے۔اور جو آفیسر عرشے پر موجود تھے انھوں نے ہدایت جاری کیں کہ جہاز کی سمت بائیں جانب موڑ لو لیکن Robert Hichens ہراساں ہوگئے اور سگنل کو سمجھنے میں مکمل طور پر غلطی کرگئے اور جہاز کو بائیں کے بجائے دائیں جانب موڑ دیا یعنی برف کے اس پہاڑ کی جانب جس سے بچنے کا کہا گیا تھا۔اور جب تک انھیں اپنی غلطی کا ادراک ہوا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
5۔۔
برٹش انکوائری نے یہ بھی پتا لگایا کہ Titanic کو اتنی ساری وارننگز ملیں انھیں یہ کئی بار بتایا گیا یہ جگہ سیف نہیں رستے میں بڑے بڑے آئس برگ ہیں۔محتاط رہنا ،لیکن نہیں۔انھوں نے اس سب کو نظر انداز کیا اور مسلسل اپنی ٹاپ سپیڈ پر سفر برقرار رکھا۔ایسا کیوں تھا۔اور کیوں اتنے سینیئر کیپٹن نے اتنی بڑی غلطی کی اور اتنے خطرناک علاقے میں بھی جہاز کی سپیڈ کو کم نہیں کیا۔ آخر کیوں ۔۔
اس بارے میں کافی ساری تھیوریز بتائی جاتی ہیں۔لیکن سب سے مشہور تھیوری کے مطابق Joseph Bruce جو کہ White Star Lineکے Chairman اور مینیجنگ ڈائریکٹر تھے۔انھوں نے کیپٹن پر دبائو ڈالا کہ Ship کی رفتار کم نہیں ہونی چاہیے تاکہ اتنا لمبا راستہ جہاز صرف 6 دن میں ہی مکمل کرلے تاکہ ایک ریکارڈ ٹوٹ سکے اور سب سے اہم ہم لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ Titanic نا صرف مہنگا سب سے بڑا بلکہ دنیا کاسب سے تیز جہاز بھی ہے۔۔
ایک دفعہ جب کیپٹن نے آئس وارننگ کو دیکھا اور Joseph کو دکھایا یہ دیکھیں یہ آئس وارننگ ہے ہمیں رفتار کم کرنی چاہیے لیکن انھوں نے کاغز لیا فولڈ کیااور جیب میں رکھ لیا تاکہ لوگوں اور عملے کو اس بارے میں پتا نا چلے۔ وہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ کسی بھی صورت جہاز کی رفتار کو کم کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا سب کچھ بتانے کے بعد میرا آپ سے ایک سوال ہے آخر کیا بات تھی کہ وہ Unsinkable کہا جانے والا جہاز اپنا پہلا سفر بھی مکمل نا کرسکا۔وہ اپنی تمام تر رعنائیوں اور رفعتوں کے ساتھ بہت تھوڑے عرصے میں ہی سمندر کے سینے میں دفن ہوگیا۔ کوئی تو اشارہ تھا جو ہمیں اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اور وہ کیا تھا یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹائی ٹینک جہاز کے ڈوبنے کے بعد دنیا کو پورے 70 سال لگے اس کے ملبے کو ڈھونڈنے میں ۔۔اور یہ تب ہی ممکن ہوسکا جب ستمبر 1985 میں ایک امریکی Ocean Explorer Robert Ballad اور ایک فرانسیسیOceanographer نے سمندر کے نیچے جا کر اسے ڈھونڈا۔ٹائی ٹینک کا ملبہ 3,800میٹر یعنی 3.8kms کی گہرائی میں تھا۔وہاں پر انھیں جہاز کے دو الگ الگ حصے ملے یہ دونوں ٹکڑے ایک دوسرے سے 600میٹر کی دوری پر پائے گئے۔ٹائی ٹینک آج بھی سمندر کی سطح کے نیچے پڑا ہوا ہے۔110 سال گزر جانے کے بعد سمندری ماحول نے اسے مکمل طور پر خراب کردیا ہے۔ابھی بھی اس کا تھوڑا سا ڈھانچہ باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیکٹیریا اور دوسرےآرگنزم اس کے فریم کو تیزی سے کھا رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 2030 تک یہ جہاز مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور The Unsinkable کا ایک معمولی سا نشان بھی اس دنیا میں باقی نا ہوگا۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

دماغ کی صلاحیت – قسط: 01

– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 01

دماغ کی صلاحیت – قسط: 02